مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
ما قالوا (فيما) إذا نسى فقام في الركعتين ما يصنع باب: اگر کوئی شخص دور کعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر یاد آئے کہ نماز پوری نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4568
٤٥٦٨ - حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يصلي ركعتين من المكتوبة ثم يقوم قال: (إن استتم) (٢) قائما مضى في صلاته فإذا هو أكمل صلاته سجد سجدتين وهو جالس بعدما يسلم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس شخص کے بارے میں جو فرض نماز کی دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے فرماتے ہیں اگر وہ پوری طرح کھڑا ہوجائے تو اپنی نماز کو جاری رکھے۔ اور جب نماز مکمل کرلے تو سلام پھیرنے کے بعد دوسجدے کرے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (عتبة)، وفي [د، هـ]: (عيبنة).
(٢) في [أ، ب]: (إذا أستتم)، وفي [هـ]: (إن استقام).