حدیث نمبر: 4491
٤٤٩١ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن أبي مجلز قال: رميت (الجمار) (١) فلم أدر بكم رميت فسألت ابن عمر فلم يجبني فمر ابن الحنفية فسألته فقال: (تعيد) (٢) (يا أبا عبد اللَّه) (٣) ليس شيء (عندنا (أعظم)) (٤) (٥) من الصلاة (وإذا) (٦) نسي أحدنا أعاد قال: فذكرت لابن عمر قوله فقال: إنهم أهل بيت (مفهمون) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مجلز کہتے ہیں کہ رمی جمار کرتے ہوئے مجھے یاد نہ رہا کہ میں نے کتنی کنکریاں ماری ہیں۔ چناچہ میں نے اس بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ اتنے میں حضرت ابن الحنفیہ گذرے میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندے ! تم دوبارہ رمی کرو، ہمارے نزدیک نماز سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، جب ہم میں سے کوئی نماز میں بھولتا ہے تو اس کا اعادہ کرتا ہے۔ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ اہل بیت ہیں اور زیادہ سمجھنے والے ہیں۔

حواشی
(١) في [ب]: (أجمارا)، وفي [أ]: (أحمارا)، وفي [هـ]: (جمارًا).
(٢) سقط من: [أ، ب]، وفي [ط، هـ]: (يعيد).
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ك]: (أعظم عندنا).
(٦) في [جـ، أ]: (وإذا).
(٧) في [أ]: (مهمون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4491
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4491، ترقيم محمد عوامة 4459)