مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
في الرجل يصلي (فلا يدري) زاد أو نقص باب: کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے؟
٤٤٨٠ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين قال: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ العصر فسلم (من) (١) ثلاث ركعات، ثم دخل فقام إليه رجل يقال له الخرباق، فقال: يا رسول اللَّه، فذكر له الذي صنع فخرج مغضبا يجر (رداءه) (٢) حتى انتهى إلى الناس فقال: "صدق هذا؟ " (قالوا) (٣): نعم، فصلى تلك الركعة، ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلّم (٤).حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔ ایک آدمی جنہیں خرباق کہا جاتا تھا وہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! آپ نے آج یوں کیا ہے۔ اس پر نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے سے چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے اور لوگوں کے پاس پہنچ کر فرمایا کہ کیا یہ ٹھیک کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر آپ نے وہ رکعت پڑھائی پھر سلام پھیر کردو سجدے کئے اور پھر سلام پھیرا۔