حدیث نمبر: 4478
٤٤٧٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن محمد بن إسحاق عن مكحول أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الوَاحِدَةِ والثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلُهَا وَاحِدَةً حَتَّى يَكُونَ الوْهْمُ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَينِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَن يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ". قال محمد: قال لي: حسين بن عبد اللَّه هل أسند لك مكحول الحديث قال محمد: (ما) (١) سألته عن ذلك قال: فإنه ذكره عن ⦗٤٧٠⦘ كريب عن ابن عباس أن عمر وابن (عباس) (٢) (تدارآ) (٣) فيه فجاء عبد الرحمن بن عوف فقال: أنا سمعت من رسول اللَّه ﷺ هذا الحديث (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے کہ کتنی پڑھی ہے ۔ تو اگر اس کو ایک یا دو رکعتوں کے بارے میں شک ہوا ہے تو ایک رکعت اور پڑھ لے تاکہ وہم زیادتی میں تبدیل ہوجائے۔ پھر تشہد کی حالت میں بیٹھ کر سلام پھیرنے سے پہلے سجودِ سہو کرے، اس کے بعد سلام پھیرے۔ حضرت کریب کہتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں حضرت عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اختلاف ہوگیا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے آکر بتایا کہ میں نے حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: زيادة (ما).
(٢) في [د] هـ: (عياش)، وفي [أ]: (عياس).
(٣) في [ب، د، هـ]: (تداريا)، وفي [س]: (تماريا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4478
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، صرح ابن إسحاق بالتحديث عند أبي يعلي، لكن يبقى احتمال الانقطاع فيما بعده، أخرجه أحمد (١٦٥٦)، والترمذي (٣٩٨)، وابن ماجة (١٢٠٩)، والحاكم ٢/ ٣٢٤، والبيهقي ٢/ ٣٣٢، والدارقطني ١/ ٣٧٠، والبزار (٩٩٦)، وأبو يعلي (٨٣٩)، والطحاوي ١/ ٤٣٣ والشاشي (٢٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4478، ترقيم محمد عوامة 4447)