مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
في الرجل يصلي (فلا يدري) زاد أو نقص باب: کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے؟
٤٤٧٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن محمد بن إسحاق عن مكحول أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الوَاحِدَةِ والثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلُهَا وَاحِدَةً حَتَّى يَكُونَ الوْهْمُ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَينِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَن يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ". قال محمد: قال لي: حسين بن عبد اللَّه هل أسند لك مكحول الحديث قال محمد: (ما) (١) سألته عن ذلك قال: فإنه ذكره عن ⦗٤٧٠⦘ كريب عن ابن عباس أن عمر وابن (عباس) (٢) (تدارآ) (٣) فيه فجاء عبد الرحمن بن عوف فقال: أنا سمعت من رسول اللَّه ﷺ هذا الحديث (٤).حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے کہ کتنی پڑھی ہے ۔ تو اگر اس کو ایک یا دو رکعتوں کے بارے میں شک ہوا ہے تو ایک رکعت اور پڑھ لے تاکہ وہم زیادتی میں تبدیل ہوجائے۔ پھر تشہد کی حالت میں بیٹھ کر سلام پھیرنے سے پہلے سجودِ سہو کرے، اس کے بعد سلام پھیرے۔ حضرت کریب کہتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں حضرت عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اختلاف ہوگیا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے آکر بتایا کہ میں نے حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔