مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
في الرجل يصلي (فلا يدري) زاد أو نقص باب: کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4466
٤٤٦٦ - حدثنا أبو بكر (حدثنا) (١) أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول اللَّه ﷺ: "إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّك وَيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ رَكَعَ رَكعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتْين فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةَ كَانَتْ الرَّكْعَةُ وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتْ الرَّكْعَةُ تَمَاَمَ صَلَاتِه وَالسَّجْدَتَانِ (تُرْغِمَانِ) (٢) الشّيْطَانَ" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے تو شک کو زائل کردے اور یقین پر عمل کرے۔ اگر اس کو نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو تو ایک رکعت پڑھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ اگر اس کی نماز مکمل ہوگئی تھی تو یہ رکعت اور دو سجدے نفل بن جائیں گے۔ اگر اس کی نماز نامکمل تھی تو اس رکعت کی وجہ سے مکمل ہوجائے گی اور دو سجدے شیطان کو ذلیل کردیں گے۔
حواشی
(١) في [أ]: (ثنا).
(٢) في [أ، ب، ك]: (يرغمان).