مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
من رخص أن تقرأ السجدة فيما يجهر به من الصلاة باب: جن حضرات نے اس بات کی رخصت دی ہے کہ جہری نمازوں میں آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے
حدیث نمبر: 4455
٤٤٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن داود بن أبي هند عن بكر بن عبد اللَّه قال: جاء رجل إلى عمر فقال: إن فلانا صلى بنا الفجر فقرأ بسورة سجد فيها فقال له عمر: (أو قد) (١) فعل؟ قال: نعم. فصلى عمر من الغد فقرأ بالنحل وبني إسرائيل فسجد فيهما جميعا (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ فلاں شخص نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں ایسی سورت پڑھی جس میں سجدہ تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا اس نے واقعی ایسا کیا ہے ؟ خبر دینے والے نے کہا ہاں۔ حضرت عمر نے اگلے دن فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورة النحل اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت کی اور دونوں میں سجدہ کیا۔
حواشی
(١) في [ب]: (وقد).
(٢) منقطع.