حدیث نمبر: 4413
٤٤١٣ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: دخلت المسجد فإذا أنا بشيخين فقرأ أحدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا أحدهما قيس بن سكن الأسدي وإذا الآخر يقرأ سورة مريم فلما بلغ السجدة قال له قيس بن سكن: دعها فإنا نكره أن يرانا أهل المسجد (فتركها) (١) وقرأ ما بعدها قال قيس: واللَّه ما صرفنا عنها إلا (شيطان) (٢) اقرأها فقرأها (فسجدنا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوا تو دو بوڑھے آدمی بیٹھے تھے، جن میں سے ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھا رہا تھا۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک حضرت قیس بن سکن اسدی تھے، دوسرے آدمی ان سے سورة مریم پڑھ رہے تھے۔ جب وہ آیت سجدہ پر پہنچے تو قیس بن سکن نے کہا کہ اسے چھوڑ دو ، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مسجد والے ہمیں دیکھیں۔ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بعد والا حصہ پڑھا۔ پھر حضرت قیس نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اس آیت کے چھوڑنے پر ہمیں شیطان نے ابھارا تھا۔ اسے پڑھو۔ چناچہ انہوں نے پڑھا اور پڑھ کر سجدہ کیا۔

حواشی
(١) في [أ]: (نتركها).
(٢) في [د]: (الشيطان).
(٣) في [ط، هـ]: (فسجد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / باب سجود التلاوة / حدیث: 4413
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4413، ترقيم محمد عوامة 4384)