مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
من كره إذا مر بالسجدة ان يجاوزها حتى يسجد باب: جن حضرات نے اس بات کو مکروہ خیال کیا ہے کہ آیت سجدہ کی تلاوت کرے اور سجدہ کئے بغیر گذر جائے
٤٤١٣ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: دخلت المسجد فإذا أنا بشيخين فقرأ أحدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا أحدهما قيس بن سكن الأسدي وإذا الآخر يقرأ سورة مريم فلما بلغ السجدة قال له قيس بن سكن: دعها فإنا نكره أن يرانا أهل المسجد (فتركها) (١) وقرأ ما بعدها قال قيس: واللَّه ما صرفنا عنها إلا (شيطان) (٢) اقرأها فقرأها (فسجدنا) (٣).حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوا تو دو بوڑھے آدمی بیٹھے تھے، جن میں سے ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھا رہا تھا۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک حضرت قیس بن سکن اسدی تھے، دوسرے آدمی ان سے سورة مریم پڑھ رہے تھے۔ جب وہ آیت سجدہ پر پہنچے تو قیس بن سکن نے کہا کہ اسے چھوڑ دو ، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مسجد والے ہمیں دیکھیں۔ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بعد والا حصہ پڑھا۔ پھر حضرت قیس نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اس آیت کے چھوڑنے پر ہمیں شیطان نے ابھارا تھا۔ اسے پڑھو۔ چناچہ انہوں نے پڑھا اور پڑھ کر سجدہ کیا۔