حدیث نمبر: 4290
٤٢٩٠ - حدثنا هشيم قال نا علي بن زيد بن جدعان عن أبي رافع قال: صليت خلف أبي هريرة بالمدينة العشاء الآخرة قال: فقرأ فيها: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ فسجد فيها فقلت (له) (١): تسجد فيها؟ فقال: رأيت خليلي أبا القاسم ﷺ سجد فيها فلا أدع ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کے ساتھ مدینہ میں عشاء کی نماز پڑھی۔ انہوں نے اس میں سورة الانشقاق کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ اس سورت میں سجدہ کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا اس کے بعد سے میں بھی یونہی کرتا ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ك]: زيادة (له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / باب سجود التلاوة / حدیث: 4290
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الطحاوي ١/ ٣٥٧، وأصله في البخاري (٧٦٦)، ومسلم (٥٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4290، ترقيم محمد عوامة 4266)