مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
فيما يكتب للرجل من التضعيف إذا أراد الصلاة باب: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں دو گنا اجر کب لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 4209
٤٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن كثير بن (شنظير) (١) عن عطاء عن أبي هريرة قال: إذا انتهى الرجل إلى القوم وهم قعود في آخر (صلاتهم) (٢) فقد دخل في التضعيف، وإذا انتهى إليهم وقد سلم الإمام ولم يتفرقوا فقد دخل في التضعيف (٣). - وقال عطاء: كان يقال إذا خرج من بيته وهو ينويهم فأدركهم أو لم يدركهم فقد دخل في التضعيف.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی جماعت کے اس حال میں شریک ہوا کہ لوگ نماز کے آخر میں بیٹھے تھے تو اسے دوگنا اجر حاصل ہوگیا۔ اگر وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد جماعت کے ساتھ شریک ہوا لیکن ابھی لوگ متفرق نہیں ہوئے تھے تو پھر بھی اسے دوگنا اجر حاصل ہوگیا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ جب کوئی شخص گھر سے اس ارادے سے نکلے کہ جماعت کے ساتھ شریک ہوگا تو اسے دوگنا اجر حاصل ہوگیا خواہ وہ جماعت تک نہ پہنچ سکے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (سنطير).
(٢) في [جـ، ك]: (الصلاة).