مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
المؤذن يؤذن مع (إمامته) باب: ایک ہی آدمی اذان اور امامت انجام دے سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 4148
٤١٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن (عن) (١) زهير عن عمران بن مسلم قال: قال سويد: لو استطعت لكنت أؤذن لهم وأؤمهم، قال (٢): فذكرت ذلك لمصعب بن سعد فقال: أما إن ذلك ليس من السنة؛ أن يكون (مؤذنا وإماما) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت سوید نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے میں طاقت ہوتی کہ میں ہی اذان دوں اور میں ہی امامت کراؤں تو میں ایسا کرلیتا۔ حضرت عمران کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت مصعب بن سعد سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات سنت نہیں کہ ایک ہی آدمی اذان بھی دے اور امامت بھی کرائے۔
حواشی
(١) في [ب]: (ابن).
(٢) في [هـ]: زيادة (قال).
(٣) في [أ، جـ، ك]: (مؤذن وإمام).