حدیث نمبر: 40751
٤٠٧٥١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا حماد بن زيد عن ابن عون عن الحسن قال: (لما) (١) (منع) (٢) علي الحكمين قال أهل (حروراء) (٣): ما (تريد) (٤) أن (تجامع) (٥) (هؤلاء) (٦)؟ فخرجوا فأتاهم إبليس (فقال) (٧): (لئن) (٨) كان هؤلاء القوم الذين فارقنا مسلمين لبئس الرأي رأينا، (ولئن) (٩) كانوا كفارا لينبغي لنا أن نناديهم، قال الحسن: فوثب (عليهم) (١٠) (أبو) (١١) الحسن (فجذهم جذا) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حسن فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دو حکم بنانے سے منع کیا تو اہل حروراء نے کہا کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کو تیار نہیں اور وہ چلے گئے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور اس نے کہا کہ وہ قوم کہاں گئی جسے ہم نے مسلمان ہونے کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ ہماری رائے تو بہت بری رائے تھی۔ اگر وہ کافر بھی ہوتے تب بھی ہمیں ان کو ساتھ رکھنا چاہئے تھا ! حسن فرماتے ہیں کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج پر حملہ کردیا اور انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا۔

حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [هـ، ع]: (صنع).
(٣) في [هـ]: (الحروراء).
(٤) في [س]: (نزيد)، وفي [هـ]: (تزيد).
(٥) في [س]: (فجامع)، وفي [هـ]: (نجامع).
(٦) في [أ، هـ]: (لهؤلاء).
(٧) في [ع]: (فقالوا).
(٨) في [ع]: (لي)، وفي [س]: (لأن)، وفي [هـ]: (أين).
(٩) في [ع]: (ولكن).
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) في [ع]: (ابن).
(١٢) في [ع]: (جزهم جزا).
(١٣) منقطع حكمًا؛ الحسن مدلس، وليس له رواية عن علي ﵁.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40751
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40751، ترقيم محمد عوامة 39095)