مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٤٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز قال: حدثنا إسحاق بن راشد عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن والضحاك بن قيس عن أبي سعيد الخدري قال: (بينا) (١) رسول اللَّه ﷺ يقسم مغنما يوم (خيبر) (٢)، فأتاه رجل من بني تميم يقال: له ذو الخويصرة، فقال: يا رسول اللَّه أعدل، فقال: "هاك! لقد خبت وخسرت إن لم أعدل"، فقال عمر: دعني يا رسول اللَّه أقتله، فقال: "لا، إن لهذا أصحابا يخرجون عند اختلاف من الناس، يقرأون القرآن لا ⦗٥٦٧⦘ يجاوز حناجرهم، (يمرقون) (٣) من الدين كما (يمرق) (٤) السهم من الرمية، تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، آيتهم رجل منهم كأن يده ثديُ المرأة، وكأنها بضعة تدردر"، قال: فقال أبو سعيد: (فسمع) (٥) أذني من رسول اللَّه ﷺ يوم حنين وبصر عيني مع علي حين قتلهم، ثم استخرجه فنظرت إليه (٦).حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جسے ذوخویصرہ کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! انصاف کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو مریی ناکامی اور نامرادی میں کیا شک ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئے، میں اسے قتل کردوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس کے کچھ ساتھی ہیں جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ تم ان کی نماز کے سامنے اپنی نماز کو حقیر سمجھو گے، تم ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے کو حقیر سمجھو گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں عورت کے پستان جیسے ہاتھ والا ایک آدمی ہوگا، جو گوشت کے ٹکڑے کی طرح لٹک رہا ہوگا۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ اس بات کو حنین کے دن میرے کانوں نے سنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خوارج کے خلاف جنگ میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ اس کو نکالا گیا اور میں نے اس علامت والے شخص کو دیکھا۔