مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧١٤ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي الطفيل أن رجلا ولد له (غلام على عهد النبي ﷺ) (١)، فدعا له وأخذ ببشرة ⦗٥٤٨⦘ (جبهته) (٢) فقال بها هكذا وغمز جبهته ودعا له بالبركة، قال: (فنبت) (٣) شعرة في جبهته (كأنها) (٤) هلبة فرس، فشب الغلام، فلما كان زمن الخوارج أحبهم؛ فسقطت الشعرة عن جبهته، فأخذه أبوه فقيده مخافة أن يلحق (بهم) (٥)، قال: فدخلنا عليه فوعظنا وقلنا له فيما نقول: ألم تر أن بركة دعوة رسول اللَّه ﷺ قد وقعت من (جبهتك) (٦)، فما زلنا به حتى رجع عن رأيهم، قال: فرد اللَّه إليه الشعرة بعد في جبهته وتاب وأصلح (٧).حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے اسے دعا دی اور اس کی پیشانی کی جلد کو چھوا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس بچے کی پیشانی پر گھوڑے کے بالوں جیسا خم دار ایک بال نکلا۔ پھر وہ لڑکا جوان ہوگیا اور جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوارج کی طرف مائل ہوگیا۔ پھر اس کی پیشانی سے وہ بال گرگیا۔ اس کے باپ نے اس کو پکڑ کر باندھ دیا کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ کہیں وہ خوارج کے ساتھ نہ جا ملے۔ ہم ایک مرتبہ اس سے ملے اور اسے نصیحت کی اور ہم نے اس سے کہا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت بھی تمہاری پیشانی سے گرگئی ہے۔ ہم اسے اسی طرح سمجھاتے رہے یہاں تک کہ اس نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشانی کے بال کو واپس کردیا اور اس نے توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی۔