مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧١٣ - حدثنا أسور بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن بشر بن (شغاف) (١) قال: سألني عبد اللَّه بن سلام عن الخوارج فقلت: هم أطول الناس صلاة وأكثرهم صوما غير أنهم إذا خلفوا الجسر اهراقوا الدماء، وأخذوا الأموال، فقال: لا (تسئل) (٢) عنهم (إلا ذا) (٣)، أما إني قد قلت لهم: لا تقتلوا عثمان، دعوه، فواللَّه لئن تركتموه إحدى عشرة ليلة ليموتن على فراشه موتًا، فلم يفعلوا، فإنه لم يقتل نبي إلا قتل به سبعون ألفا من الناس، ولم يقتل خليفة إلا قتل به (خمسة) (٤) وثلاثون ألفًا (٥).حضرت بشر بن شغاف فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے مجھ سے خوارج کے بارے میں سوال کیا تو میں نے عرض کیا کہ وہ سب سے لمبی نماز پڑھنے والے اور سب سے زیادہ روزے رکھنے والے ہیں۔ لیکن جب وہ پل کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں تو خون بہاتے ہیں اور مال چھین لے تھ ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کے بارے میں تم سے یہی سوال کیا جائے گا۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ حضرت عثمان کو شہید نہ کرو، انہیں چھوڑ دو خدا کی قسم اگر تم انہیں گیارہ راتوں تک چھوڑ دو تو وہ اپنے بستر پر انتقال کرجائیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جب کوئی نبی قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ستر ہزار لوگ قتل ہوتے ہیں اور جب کوئی خلیفہ قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلہ میں پینتیس ہزار لوگ قتل ہوتے ہیں۔