مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن سميع الحنفي عن أبي رزين قال: لما كانت الحكومة بصفين وباين الخوارج (عليا) (١) رجعوا مباينين له، وهم في عسكر، وعلي في عسكر، [حتى دخل (علي الكوفة) (٢) (مع الناس بعسكره) (٣)، ومضوا هم إلى حروراء بعسكرهم] (٤)، فبعث عليٌّ إليهم ابن عباس فكلمهم فلم يقع منهم موقعًا، فخرج (علي) (٥) إليهم (فكلمهم) (٦) حتى ⦗٥٤٦⦘ أجمعوا هم وهو على الرضا، فرجعوا حتى دخلوا الكوفة على الرضا منه ومنهم، فأقاموا يومين أو نحو ذلك، قال: فدخل الأشعث بن قيس وكان يدخل على علي فقال: إن الناس يتحدثون أنك رجعت لهم عن كفره، فلما أن كان الغد (أو) (٧) الجمعة صعد (علي) (٨) المنبر فحمد اللَّه وأثنى عليه فخطب فذكرهم ومباينتهم الناس وأمرهم الذي فارقوه فيه، فعابهم وعاب أمرهم، قال: فلما نزل عن المنبر (تنادوا) (٩) من نواحي المسجد: "لا حكم إلا للَّه"، فقال علي: حكم اللَّه أنتظر فيكم، ثم قال بيده هكذا يسكتهم بالإشارة، وهو على المنبر حتى (أتاه) (١٠) رجل منهم واضعا إصبعيه في (أذنيه) (١١) وهو يقول: ﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [الزمر: ٦٥] (١٢).حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ جب حکومت صفین میں تھی، اور خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ توخوارج ایک لشکر میں تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسرے لشکر میں تھے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہاپنے لشکر کے ساتھ کوفہ واپس آگئے اور وہ اپنے لشکر میں حروراء چلے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا لیکن انہوں نے کوئی گنجائش نہ پائی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہان سے گفتگو کے لئے تشریف لئے گئے اور ان سے بات چیت ہوئی اور سب آپس میں راضی ہوگئے۔ اور کوفہ واپس آگئے۔ یہ رضامندی دو یا تین دن قائم رہی۔ پھر اشعث بن قیس آئے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اکثر آیا کرتے تھے اور انہوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے کہ آپ نے ان سے ان کے کفر کے باوجود رجوع کرلیا۔ اگلے دن یا جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر جلوہ افروز ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور خطبہ میں انہیں نصیحت فرمائی۔ لوگوں سے ان کے الگ ہونے کا تذکرہ کیا، جس چیز میں انہوں نے مفارقت کی اس کا انہیں حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی اور ان کے طریقہ کار کی مذمت فرمائی۔ جب وہ منبر سے نیچے تشریف لائے تو مسجد کے کونوں سے آوازیں آنے لگیں کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کررہا ہوں۔ پھر منبر پر انہیں ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ فرمایا۔ اتنے میں خارجیوں کا ایک آدمی اپنی انگلیاں کانوں پر رکھ کر یہ آیت پڑھتے ہوئے آیا { لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ }۔