حدیث نمبر: 40691
٤٠٦٩١ - حدثنا أبو بكر (١) عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يخرج في آخر الزمان قوم أحداث الأسنان سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول الناس، يقرأون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٢) من الإسلام كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية، فمن لقيهم فليقتلهم فإن قتلهم أجر عند اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب ایک ایسی قوم کا ظہورہوگا جن کے افراد کم عمر کے ہوں گے، عقل کے اندھے ہوں گے، جب بات کریں گے تو لوگوں میں سب سے خوب بات کہیں گے۔ زبانوں سے قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین اسلام سے اس تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ جسے ان کا سامنا ہو ان سے قتال کرے کیونکہ ان سے قتال کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑے اجر کی بات ہے۔

حواشی
(١) هو: ابن عياش.
(٢) في [ع]: (يمزقون).
(٣) في [ع]: (يمزق).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40691
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عاصم في زر، أخرجه أحمد (٣٨٣١)، والترمذي (٢١٨٨)، وابن ماجه (١٦٨)، وأبو يعلى (٥٤٠٢)، والآجري في الشريعة ص ٣٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40691، ترقيم محمد عوامة 39038)