حدیث نمبر: 40681
٤٠٦٨١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن عاصم بن كليب الجرمي عن أبيه قال: إني لخارج من المسجد إذ رأيت ابن عباس حين جاء من عند معاوية في أمر الحكمين فدخل دار سليمان بن ربيعة فدخلت معه. فما زال (يرمي) (١) إليه (برجل) (٢) ثم رجل بعد رجل: يا ابن عباس كفرت ⦗٥٣٠⦘ وأشركت (ونددت) (٣)، قال (اللَّه) (٤) في كتابه كذا، و (قال اللَّه) (٥) كذا وقال اللَّه كذا حتى دخلني من ذلك، قال: ومن هم؟ هم واللَّه السن الأول أصحاب محمد، هم واللَّه أصحاب البرانس والسواري. قال: فقال ابن عباس: انظروا أخصمكم وأجدلكم وأعلمكم بحجتكم فليتكلم، فاختاروا رجلا أعور يقال له: (عتاب) (٦) من بني (تغلب) (٧)، فقام فقال: قال اللَّه كذا، (وقال اللَّه كذا) (٨)، كأنما ينزع بحاجته من القرآن في سورة واحدة. قال: فقال ابن عباس: إني أراك قارئا للقرآن عالما بما قد فصلت ووصلت، أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، هل علمتم أن أهل الشام سألوا القضية فكرهناها (وأبيناها) (٩)؟ فلما أصابتكم (الجراح) (١٠) وعضكم الألم ومنعتم ماء الفرات (١١) أنشأتم تطلبونها. ولقد أخبرني معاوية أنه أتي بفرس بعيد البطن من الأرض (ليهرب) (١٢) عليه (ثم) (١٣) أتاه آتٍ منكم، فقال: إني تركت أهل العراق يموجون مثل الناس ليلة النفر بمكة، يقولون مختلفين في كل وجه مثل ليلة النفر بمكة. ⦗٥٣١⦘ قال: ثم قال ابن عباس: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، أي رجل كانِ أبو بكر؟ فقالوا: (خَيْرًا) (١٤) وَأثْنَوا، (فقال: عمر بن الخطاب؟ فقالوا: خيرًا وأثْنَوْا) (١٥)، فقال: أفرأيتم لو أن رجلا خرج حاجا أو معتمرا فأصاب ظبيًا أو بعض هوام الأرض فحكم فيه أحدهما (وحده) (١٦) (١٧) أكان له واللَّه يقول: ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ﴾ [المائدة: ٩٥] فما اختلفتم فيه من أمر (الأمة أعظم) (١٨)، يقول: فلا تنكروا حكمين في دماء الأمة، وقد جعل اللَّه في قتل طائر حكمين، وقد جعل بين اختلاف رجل وامرأته حكمين لإقامة العدل والإنصاف بينهما فيما اختلفا (فيه) (١٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ میں مسجد سے باہر تھا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ حاکموں کے معاملے میں حضرت معاویہ کے پاس سے واپس آرہے تھے۔ وہ حضرت سلیمان بن ربیعہ کے گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوا۔ انہیں ایک آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا اور کہا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! تم نے کفر کیا، تم نے شرک کیا اور تم نے اللہ کا ہم سر ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں یہ فرماتا ہے، یہ فرماتا ہے اور یہ فرماتا ہے۔ راوی سے پوچھا گیا کہ وہ کون تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ تھے۔ (٢) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ تم اپنے میں سے سب سے زیادہ عالم اور سب سے بڑے مناظر کا انتخاب کرلو وہ مجھ سے بات کرے۔ انہوں نے ایک کانے شخص کا انتخاب کیا جن کا نام عتاب تھا اور وہ بنو تغلب سے تھے۔ انہوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ گویا وہ اپنی ضرورت کو قرآن کی ایک سورت سے ثابت کررہے تھے۔ (٣) ان کی بات سن کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو قرآن کا عالم سمجھتا ہوں، کیونکہ آپ نے بہت وضاحت سے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ میں آپ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شام والوں نے فیصلے کا مطالبہ کیا اور ہم نے اسے ناپسند کیا اور انکار کیا۔ پھر جب تمہیں زخم پہنچے، الم پہنچے اور تمہیں فرات کے پانی سے محروم کیا گیا تو تم نے فیصلے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ؟ مجھے حضرت معاویہ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک پتلی کمر والا گھوڑا لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوکر بھاگ جائیں یہاں تک کہ تم میں سے کوئی آنے والا آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اہل عراق کو ان لوگوں کی طرح چھوڑ دیا ہے جو مکہ میں نفر کی رات ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ (٤) پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابوبکر کیسے آدمی تھے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر پوچھا کہ عمر بن خطاب کیسے آدمی تھے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارے خیال میں اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے لئے جائے اور کسی ہرن یا وہاں کے حشرات میں سے کسی کو مار ڈالے اور خود فیصلہ کرلے تو کیا اس کا فیصلہ معتبر ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ ) جبکہ تمہارا جس معاملے میں اختلاف ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کے لئے پرندے کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں، آدمی اور اس کی بیوی کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں تو تمہارے اختلاف میں جو ان سے بڑا ہے دو حاکم کیوں نہیں ہوسکتے۔

حواشی
(١) في [ع]: (يرما)
(٢) في [هـ]: (رجل).
(٣) في [ع]: (وترددت).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (عتار).
(٧) في [ع]: (ثعلب).
(٨) في [ع]: تكررت.
(٩) في [ع]: (وأتيناها).
(١٠) في [هـ]: (الجروح).
(١١) في [هـ]: زيادة (و).
(١٢) في [ع]: (لهرب).
(١٣) في [ع]: (حتى).
(١٤) في [هـ]: (خير).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [س]: (وجده).
(١٧) في [س]: زيادة (الحال).
(١٨) في [ب]: (الأمر أعظم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40681
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40681، ترقيم محمد عوامة 39028)