مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
باب ما ذكر في صفين باب: جنگ صفین کا بیان
٤٠٦٧٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا عبد الملك بن قدامة الجمحي قال: حدثني (عمر) (١) بن شعيب (أخو عمرو بن شعيب) (٢) عن أبيه عن جده قال: لما رفع الناس أيديهم عن صفين قال عمرو بن (العاص) (٣) (٤): شبت الحرب فأعددت لها … (مفرع) (٥) الحارك (مروي) (٦) (الثبج) (٧) يصل الشد بشد فإذا … (ونت) (٨) الخيل من (الشد) (٩) معج جرشع أعظمه جفرته … فإذا ابتل من الماء (خرج) (١٠) قال: وقال: عبد اللَّه بن عمرو: لو شهدت جمل مقامي ومشهدي … بصفين يوما شاب منها الذوائب عشية جاء أهل العراق كأنهم … سحاب ربيع (رفعته) (١١) الجنائب ⦗٥٢٨⦘ وجئناهم نردى كأن صفوفنا … من البحر مد موجه متراكب فدارت رحانا واستدارت (رحاهم) (١٢) … سراه النهار ما تولى المناكب إذا قلت قد ولوا سراعا بدت لنا … كتائب منهم فارجحنت كتائب فقالوا: لنا إنا نرى أن تبايعوا … عليا فقلنا بل نرى أن نضارب (١٣)حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صفین میں لوگوں نے حملے کے لئے ہاتھ بلند کئے تو حضرت عمرو بن عاص نے یہ اشعار کہے : : لڑائی نے زور پکڑ لیا، میں نے اس لڑائی کے لیے ایک بہادر اور اعلیٰ نسل کا گھوڑا تیار کیا ہے۔ وہ سختی کا مقابلہ سختی سے کرتا ہے اور جب گھڑ سوار ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو وہ اور توانا ہوجاتا ہے، وہ تیز رفتار ہے اور بڑا ہے، جب پانی سے تر ہوجائے تو اور چست ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے شعر کہے : : اگر جوان صفین میں میرے کھڑے ہونے کو دیکھ لیں تو ان کے بال سفید ہوجائیں۔ یہ وہ رات تھی جب اہل عراق بادلوں کی طرح آئے تھے۔ اس وقت ہماری صفیں سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مار رہی تھیں۔ ان کی چکی بھی گھومی اور ہماری چکی بھی گھومی اور ہمارے کندھے ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے۔ جب میں کہتا کہ وہ بھاگ گئے تو ان کی ایک جماعت اچانک آکر حملہ کردیتی۔ وہ ہم سے کہتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرو اور ہم کہتے تھے کہ تم لڑائی کرو۔