حدیث نمبر: 40643
٤٠٦٤٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (يزيد) (١) بن عبد العزيز عن أبيه عن ⦗٥١٧⦘ حبيب بن أبي ثابت قال: رأيت -أو: كانت- شك (يحيى) (٢) - رأية على يوم صفين مع هاشم بن عتبة، وكان رجلا أعور (فجعل) (٣) عمار يقول: أقدم يا أعور، لا خير في أعور، لا يأتي الفزع فيستحي فيتقدم، قال: يقول عمرو بن (العاص) (٤): إني لأرى لصاحب الراية السوداء عملا لئن دام على ما أرى لتفانن العرب اليوم، قال: فما زال أبو اليقظان (حتى كف بينهم) (٥)، قال: وهو يقول: كل الماء (ورد) (٦)، (والمياه رود) (٧)، صبرا عباد اللَّه الجنة، تحت ظلال السيوف (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حبیب ابی ثابت فرماتے ہیں کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا ہاشم بن عتبہ کے ہاتھ میں تھا۔ ان کی ایک آنکھ کانی تھی۔ حضرت عمار کہنے لگے اے کانے ! آگے آؤ، اس کانے میں کوئی خیر نہیں جو گھبراہٹ کا سامنا نہ کرے۔ وہ شرمائے اور آگے آئے۔ حضرت عمرو بن عاص نے کہا کہ میں کالے جھنڈے والے میں ایک عمل دیکھ رہاہوں، اگر وہ ایسا ہی رہا تو آج عرب کچھ کرکے رہیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہر پانی کا گھاٹ ہوتا ہے اور پانی کے پاس آیا جاتا ہے، اللہ کے بندو ! صبر کرو، جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (زيد).
(٢) سقط من [ع].
(٣) في [هـ]: (فحمل عليه)
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (العاصي).
(٥) في [ب، س]: (حتى ألف بينهم)، وفي [هـ]: (يتألف فيهم).
(٦) في [ع]: (وارد).
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (والماء رود).
(٨) منقطع؛ حبيب لم يدرك صفين.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40643
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40643، ترقيم محمد عوامة 38992)