مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٦٣٧ - حدثنا إسحاق بن سليمان قال: حدثنا أبو سنان عن عمرو بن مرة قال: جاء (سليمان) (١) بن صرد إلى علي بن أبي طالب بعدما فرغ من قتال يوم الجمل، وكانت له صحبة مع النبي ﵇، فقال له علي: خذلتنا وجلست عنا وفعلت على رؤوس الناس؟ فلقي سليمانُ الحسنَ بن علي فقال: ما لقيت من أمير المؤمنين؟ قال: (قال) (٢) لي: كذا وكذا على رؤوس الناس، (فقال) (٣): لا يهولنك هذا منه فإنه محارب، فلقد رأيته يوم الجمل حين أخذت السيوف ⦗٥١٤⦘ (مأخذها) (٤) يقول: لوددت أني مت قبل هذا اليوم بعشرين سنة (٥).عمرو بن مرہ سے منقول ہے کہتے ہیں سلیمان بن صرد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جنگ جمل کے دن جنگ سے فراغت کے بعد آئے یہ صحابی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمیں رسوا کیا اور آپ ہم سے پیچھے رہ گئے۔ حضرت سلیمان بن صرد حسن سے ملے اور ان سے کہا کیا آپ امیر المومنین سے نہیں ملے ؟ انہوں نے مجھے اس طرح سے کہا ہے۔ حسن نے فرمایا آپ ان کی اس بات سے خوفزدہ مت ہوں کہ وہ جنگ کرنے والے ہیں۔ میں نے جنگ جمل کے دن ان کو دیکھا جب میں نے اپنی تلوار کو اچھی طرح تھا ما کہ وہ فرما رہے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اس دن سے بیس سال قبل فوت ہوجاتا۔