مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٦٣٥ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) يعقوب عن جعفر بن أبي المغيرة عن ابن (أبزى) (٢) قال: انتهى عبد اللَّه بن بديل إلى عائشة وهي في الهودج يوم الجمل، فقال: يا أم المؤمنين! أنشدك باللَّه، أتعلمين أني أتيتك يوم قتل عثمان فقلت: إن عثمان قد قتل فما تأمريني؟ فقلت لي: ألزم عليًا، فواللَّه ما غير ولا بدل، فسكتت ثم (أعاد) (٣) عليها ثلاث مرات، (فسكتت) (٤)، فقال: اعقروا الجمل، فعقروه، ⦗٥١٣⦘ قال: فنزلت أنا وأخوها محمد بن أبي بكر (فاحتملنا) (٥) الهودج، حتى وضعناه بين يدي علي، فأمر به علي فأدخل في منزل عبد اللَّه بن (بديل) (٦) (٧).ابن ابزی سے منقول ہے کہ عبداللہ بن بدیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے وہ ھودج میں تھیں جنگ جمل کے دن پھر عرض کیا اے ام المومنین آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتی ہو کہ میں آپ کے پاس اس دن حاضر ہوا تھا جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا تھا۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ حضرت عثمان شہید ہوگئے اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لازم پکڑو۔ اللہ کی قسم وہ بدلے نہیں پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں پھر یہی بات عبداللہ بن بدیل نے تین دفعہ دہرائی پس وہ خاموش رہیں۔ عبداللہ بن بدیل نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا حکم دیا تو اونٹنی کی کانچیں کاٹ دی گئیں پس میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابوبکر اترے اور ان کے ھودج کو اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ پھر ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے عبداللہ بن بدیل کے گھر میں داخل کردیا۔ جعفر بن ابو مغیرہ کہتے ہیں کہ میری پھوپھی عبداللہ بن بدیل کے ہاں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا مجھے اندر داخل کردو پس میں نے انہیں اندر داخل کردیا اور میں نے ان کو ایک سفلچی (ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن) اور جگ ان کے پاس رکھ دیا اور دروازہ بند کردیا۔ کہتی ہیں کہ میں دروازے کی دراڑوں میں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ اپنے سر کا علاج کر رہیں تھیں میں نہیں جانتی کہ ان کے سر میں کوئی زخم تھا یاتیر کا زخم۔