مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40619
٤٠٦١٩ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن داود بن أبي هند عن أبي حرب بن الأسود عن أبيه أن الزبير بن العوام لما (قدم) (٢) البصرة دخل بيت المال، فإذا هو بصفراء وبيضاء فقال: (يقول اللَّه) (٣): ﴿وَعَدَكُمُ (اللَّهُ) (٤) مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ﴾ [الفتح: ٢٠]، ﴿وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا﴾ [الفتح: ٢٠] فقال: هذا لنا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود سے روایت ہے کہ زبیر بن عوام جب بصرہ تشریف لائے بیت المال میں داخل ہوئے وہاں سونے چاندی کے ڈھیر تھے پھر فرمایا ” وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت غنیمتوں کا کہ تم ان کو لوگے، سو جلدی پہنچا دی تم کو یہ غنیمت “ (الفتح ٢١) اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہیں تھی وہ اللہ کے قابو میں ہے۔ پھر فرمایا یہ ہمارے لیے ہے۔
حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (دخل).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [ع].