مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40617
٤٠٦١٧ - حدثنا أبو أسامة (١) عن عوف عن الحسن قال: جاء رجل إلى الزبير يوم الجمل (فقال) (٢): (أقتل) (٣) لك عليا؟ قال: وكيف؟ قال: آتيه فأخبره أني معه، ثم أفتك به، فقال الزبير: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: " (إن) (٤) الإيمان قيد الفتك لا يفتك مؤمن" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حسن سے منقول ہے کہ ایک آدمی زبیر کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردوں۔ حضرت زبیر نے فرمایا وہ کیسے ؟ اس نے جواب دیا میں اس کے پاس جا کر کہوں گا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں پھر میں انہیں دھوکے سے قتل کر ڈالوں گا۔ حضرت زبیر نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان دھوکے کو روکنے والا ہے اور مومن کبھی دھوکا نہیں دیتا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٢) في [ع]: (قال).
(٣) في [س]: (أقبل).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) منقطع؛ الحسن لا يروي عن الزبير، أخرجه أحمد (١٤٢٦)، وعبد الرزاق (٩٦٧٦)، وسبق ١٥/ ١٢٣.