مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٦١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة عن إبراهيم بن محمد بن (المنتشر) (١) عن أبيه عن عبيد بن (نضيلة) (٢) عن سليمان بن (صرد) (٣) قال: أتيت عليًا يوم الجمل وعنده (الحسن) (٤) وبعض أصحابه، فقال علي حين رآني: يا ابن (صرد) (٥) (تنأنأت) (٦) و (تزحزحت) (٧) وتربصت، كيف ترى اللَّه (صنع؟) (٨) (قد أغنى) (٩) اللَّه عنك، قلت: يا أمير المؤمنين إن (الشوط) (١٠) (بطين) (١١) وقد بقي من الأمور ما (تعرف) (١٢) فيها عدوك من صديقك، قال: فلما (قام) (١٣) الحسن لقيته فقلت: ما أراك أغنيت عني شيئا ولا عذرتني عند الرجل؟ وقد كنت حريصا على أن (تشهد) (١٤) معه، قال: هذا يلومك على (ما) (١٥) يلومك، وقد قال لي يوم الجمل: مشى الناس بعضهم إلى بعض، يا حسن ثكلتك أمك -أو هبلتك أمك- ما ظنك بامرئ، جمع بين هذين الغارين، واللَّه ما أرى بعد هذا خيرا، قال: فقلت: ⦗٥٠٥⦘ ألهمكت، لا (يسمعك) (١٦) (أصحابك) (١٧) فيقولوا: شككت فيقتلونك (١٨).سلیمان بن صرد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس حسن اور ان کے بعض ساتھی بھی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا اے ابن صرد کمزور اور ڈھیلے پڑگئے اور پیچھے ٹھہر گئے۔ اللہ کے ساتھ تمہارا کیا معاملہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بےنیاز کردیا میں نے کہا اے امیر المومنین معاملہ بڑا سخت ہوگیا۔ معاملات ایسے ہوگئے ہیں کہ آپ کے دوست اور دشمن میں امتیاز مشکل ہوچکا کہتے ہیں کہ جب حسن کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا آپ نے میری ذرا بھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی میری طرف سے کوئی عذراسی شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کے پاس کیا ؟ حالانکہ میں اس بات کا متمنی تھا ان کے پاس میری گواہی ہے۔ حسن نے فرمایا انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) جو ملامت آپ پر کرنی تھی سو وہ کی۔ حالانکہ مجھے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف جا رہے ہیں اے حسن تیری ماں تجھے گم کرے ! تیرا میرے اس معاملے کے بارے میں کیا خیال ہے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہیں اللہ کی قسم میں اس کے بعد خیر نہیں دیکھتا۔ میں نے کہا آپ خاموش ہوجائیے آپ کے ساتھی نہ سن لیں پس کہنے لگیں کہ تو نے معاملہ مشکوک کردیا اور تجھے قتل کردیں۔