مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40607
٤٠٦٠٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: كان مروان مع طلحة يوم الجمل، قال: فلما (اشتبكت) (١) الحرب (قال مروان) (٢): لا أطلب بثأري بعد اليوم، قال: ثم رماه بسهم فأصاب ركبته، فما رقأ الدم حتى مات، قال: وقال طلحة: دعوه، فإنما هو سهم أرسله اللَّه (٣).مولانا محمد اویس سرور
قیس سے منقول ہے کہ مروان جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ کے ساتھ تھا۔ جب جنگ چھڑ چکی تو مروان نے کہا میں آج کے بعد انتقام طلب نہیں کروں گا پھر ان کی طرف تیر پھینکا جو حضرت طلحہ کے گھٹنے میں لگا اور خون مسلسل بہتا رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے حضرت طلحہ نے (شہادت سے پہلے) فرمایا اس زخم کو چھوڑ دو یہ وہ تیر ہے جسے اللہ نے بھیجا ہے۔
حواشی
(١) في [ب، ي]: (اشتكت).
(٢) سقط من: [أ، ب].