حدیث نمبر: 40598
٤٠٥٩٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا أبو ضرار زيد بن (عصن) (١) الضبي إمام مسجد بني هلال قال: حدثنا خالد بن مجاهد بن حيان الضبي (من) (٢) بني مبذول عن ابن (عم) (٣) له يقال له: تميم بن ذهل الضبي، قال: إني يوم الجمل آخذ بركاب علي أجهد معه وأنا أرى ألا في الجنة، وهو يتصفح القتلى، فمر برجل أعجبته هيئته وهو مقتول، فقال: من يعرف هذا؟ (قلت) (٤): هذا فلان الضبي، وهذا ابنه حتى عددت سبعة صرعى مقتلين حوله، قال: فقال علي: لوددت أنه ليس في الأرض ضبي إلا تحت (صفحة) (٥) هذا الشيخ (٦).
مولانا محمد اویس سرور

تمیم بن ذھل ضبی سے منقول ہے کہ میں جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رکاب تھامے ہوا تھا اور انہی کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ میں جنت میں ہوں اور وہ مقتولین کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کی حالت بڑی عجیب تھی اور مقتول تھا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے کون جانتا ہے ؟ میں نے کہا فلاں شخص ہے ضبی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور فلاں کا بیٹا ہے حتیٰ کہ میں نے سات مقتولین کو گنا جو اسکے گرد اوندھے پڑے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ زمین میں کوئی ضبی نہ ہوتا مگر اس شیخ کے ماتحت۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (عمر).
(٢) سقط من: [ت].
(٣) في [ب]: (عمر).
(٤) في [أ، ب]: (قال: قلت)، وفي [ع]: (قال: فقلت).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٦) مجهول؛ لجهالة زيد وخالد وتميم، انظر: الثقات ٤/ ٨٨، واللباب في تهذيب الأنساب ٣/ ١٦٠، والأنساب ٥/ ١٨٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40598
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40598، ترقيم محمد عوامة 38949)