مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40596
٤٠٥٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (١) جعفر عن أبيه عن علي بن حسين قال: حدثنا (ابن) (٢) عباس قال: أرسلني علي إلى طلحة والزبير يوم الجمل، قال: فقلت لهما: إن أخاكما يقرئكما السلام ويقول لكما: هل وجدتما عليَّ (حيفا) (٣) ⦗٤٩١⦘ في حكم أو (استئثارا) (٤) (بفيء) (٥) أو بكذا (أو بكذا) (٦)، قال: فقال الزبير: لا في واحدة (منها) (٧)، ولكن مع الخوف شدة المطامع (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس سے روایت ہے کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی طرف جنگ جمل کے دن بھیجا۔ میں نے ان سے کہا آپ دونوں کے بھائی آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور آپ دونوں کو کہہ رہے ہیں کیا تم نے مجھے کسی حکم میں ظلم کرتے ہوئے پایا یا اس طرح کی کوئی اور بات ہے ؟ حضرت زبیر نے فرمایا ان میں سے کوئی نہیں مگر خو ف کے ساتھ ان کے اندر لالچ بھی ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (أبي).
(٢) سقطت من النسخ، وثبتت في كتاب الأمراء ١١/ ١٠٥ برقم [٣٢٦٢١].
(٣) في [أ، ب]: (حفيفًا).
(٤) في [س، ع]: (استثار)، وفي [أ، ب]: (استيثار).
(٥) في [أ، ب]: (الفيء).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (منهما).