مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٨٨ - حدثنا بن إدريس عن حسن بن فرات عن أبيه عن (عمير) (١) بن سعد قال: لما رجع علي من الجمل وتهيأ (لصفين) (٢) (اجتمع) (٣) النخع حتى دخلوا على الأشتر، فقال: هل في البيت إلا نخعي؟ فقالوا: لا، فقال: إن هذه الأمة (عمدت) (٤) إلى خيرها فقتلته، وسرنا إلى أهل البصرة قوم لنا عليهم بيعة فنُصرنا عليهم بنكثهم، وإنكم تسيرون غدا إلى أهل الشام قوم ليس (لكم) (٥) (عليهم) (٦) بيعة، فلينظر امرؤ منكم (أين) (٧) يضع سيفه (٨).عمیر بن سعد سے روایت ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل سے واپس لوٹے تو جنگ صفین کی تیاری شروع فرمائی نخعی قبیلہ والے جمع ہوئے اور اشتر کے پاس آئے۔ اس نے کہا گھر میں نخعی کے علاوہ بھی کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ پھر کہنے لگا اس امت نے اپنے بہترین انسان کا قصد کیا اور اس کو قتل کرڈالا۔ ہم اہل بصرہ کی طرف گئے وہ ایسی قوم تھی جس نے ہماری بیعت کی ہوئی تھی پس ان کے بیعت توڑنے کی وجہ سے ہماری مدد کی گئی اور کل تم ایسی قوم کی طرف جانے والے ہو جو شام کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے ہماری بیعت نہیں کی ۔ پس تم میں سے ہر آدمی دیکھ لے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔