مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٨٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا مسعود بن سعد الجعفي عن عطاء بن السائب عن أبي البختري قال: لما انهزم أهل الجمل قال علي: لا يطلبن عبد خارجا من العسكر، وما كان من دابة أو سلاح فهو لكم؛ وليس لكم أم ولد؛ (والمواريث) (١) على فرائض اللَّه، وأي امرأة قتل زوجها فلتعتد أربعة أشهر وعشرًا، قالوا: يا أمير المؤمنين تحل لنا دماؤهم ولا تحل لنا نساؤهم قال: فخاصموه، فقال: كذلك السيرة في أهل القبلة، قال: فهاتوا سهامكم واقرعوا على عائشة فهي رأس الأمر وقائدهم قال: (فعرفوا) (٢) وقالوا: نستغفر اللَّه، قال: فخصمهم علي (٣).ابو بختری سے روایت ہے کہ جب اہل جمل (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا لشکر) شکست کھاچکا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی آدمی لشکر سے باہر کسی کی تلاش نہ کرے (یعنی شکست کھانے والوں کا پیچھا نہ کرے) جو سواری یا ہتھیار یہاں سے ملے ہیں وہ تمہارا ہے لیکن تمہارے لیے کوئی ام ولد نہیں (یعنی کوئی باندی تمہارے لیے نہیں) اور وراثتیں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گی اور جس عورت کا خاوند فوت ہوچا ہے وہ اپنی عدت چار مہینے دس دن (آزاد عورت کی طرح) پوری کرے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے لشکر والے کہنے لگے اے امیر المومنین آپ ان کا مال ہمارے لیے حلال کرتے ہیں مگر ان کی عورتیں حلال نہیں کرتے۔ پس لشکر والے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر غالب آگئے۔ آپ نے فرمایا اہل قبلہ کے اخلاق ایسے ہی ہوتے ہیں پھر فرمایا لاؤ اپنے تیر مجھے دو اور سب سے پہلے قرعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ڈالو وہ کس کے حصے میں آتی ہں ر (جو تمہاری سب کی ماں ہے) کیونکہ وہ لشکر کی قائد تھیں۔ پس یہ سن کر وہ منتشر ہوگئے اور اللہ سے مغفرت کرنے لگے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہان پر غالب آگئے حجت اور دلیل میں (یعنی مسلمانوں کی عورتوں کو باندی نہیں بنایا جاسکتا)