مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٨١ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا أبو الأحوص عن خالد بن علقمة عن عبد خير قال: ضرب (فسطاط) (١) بين العسكرين يوم الجمل ثلاثة أيام، فكان علي والزبير وطلحة يأتونه، فيذكرون فيه ما شاء اللَّه، حتى إذا كان يوم الثالث عند زوال الشمس رفع علي جانب الفسطاط ثم أمر بالقتال، فمشى بعضنا إلى بعض، وشجرنا بالرماح حتى لو شاء الرجل أن يمشي عليها لمشى، ثم أخذتنا السيوف فما شبهتها إلا دار الوليد (٢).عبد خیر سے روایت ہے جنگ جمل کے دوران تین دن تک دونوں لشکروں کے درمیان ایک خیمہ گاڑھا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر (رض) عنھم وہاں تشریف لاتے اور اس بارے میں باتیں کرتے جو اللہ چاہتا حتیٰ کہ جب تیسرا دن ہوا تو دوپہر کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمہں کی ایک جانب اٹھائی اور قتال کا حکم دیا۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کی جانب چلنا شروع کیا ایک دوسرے کی طرف نیزے چلانے شروع کیے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص ان نیزوں کے اوپر چلنا چاہتا تو چل سکتا تھا پھر ہم نے تلواریں اٹھائیں اور ان کو میں تشبیہ نہیں دیتا مگر ولید کے گھر کے ساتھ۔