مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٧٣ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد قال: (أخبرنا) (٢) قيس قال: رمى مروان بن الحكم يوم الجمل طلحة بسهم في ركبته، قال: ⦗٤٨٢⦘ فجعل الدمُ (يغذو الدمَ) (٣) يسيل، قال: (فإذا) (٤) أمسكوه (امتسك) (٥)، وإذا تركوه سأل، قال: فقال: دعوه، قال: وجعلوا إذا أمسكوا فم الجرح انتفخت ركبته، فقال: دعوه (فإنما) (٦) هو سهم أرسله اللَّه، قال: فمات، (قال) (٧): فدفناه على شاطئ الكلاء، فرأى بعض أهله أنه قال: ألا تريحونني من (هذا) (٨) الماء؟ فإني قد غرقت -ثلاث مرار يقولها، قال: فنبشوه فإذا هو أخضر (كأنه السلق) (٩) فنزفوا عنه الماء ثم (استخرجوه) (١٠)، فإذا ما يلي الأرض من لحيته ووجهه قد أكلته الأرض، فاشتروا له (دارا) (١١) من دور آل أبي بكرة بعشرة آلاف فدفنوه فيها (١٢).قیس روایت کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے حضرت طلحہ کے گھٹنے میں ایک تیر مارا جنگ جمل کے دن۔ پس اس سے خون بہنا شروع ہوا جب سب اس کو روکتے رک جاتا اور اسے چھوڑ دیتے پھر خون جاری ہوجاتا پس حضرت طلحہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۔ جب لوگوں نے زخم کے منہ کو روکنا چاہا تو گھٹنہ پھول گیا حضرت طلحہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ تیر اللہ عزوجل کی طرف سے تھا پھر آپ کا انتقال ہوگیا۔ ہم نے انہیں کلاء (دریا کنارے ایک بازار) کے ایک جانب دفن کردیا۔ ان کے گھر والوں میں سے کیپ نے انہیں خواب میں دیکھا کہ وہ فرما رہے ہیں ! کیا تم مجھے پانی سے نجات نہیں دلاؤ گے ؟ میں پانی میں ڈوب چکا ہوں یہ کلمات تین دفعہ فرمائے۔ ان کی قبر کو کھودا گیا تو وہ سبز ہوچکے تھے سلق (سبزی) کی طرح۔ لوگوں نے ان سے پانی کو دور کیا پھر ان کو وہاں سے نکالا تو جو حصہ زمین سے ملا ہوا تھا ان کی داڑھی اور چہرے میں سے اس کو زمین نے کھالیا تھا۔ ان کے لیے ابو بکرہ کی آل کے گھروں میں سے ایک گھر دس ہزار درہم کا خریدا اور اس میں حضرت طلحہ کو دفن کیا۔