مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٧١ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت سويد بن الحارث قال: لقد (رأيتنا) (١) يوم الجمل وإن رماحنا ورماحهم لمتشاجرة، ولو شاءت الرجال لمشت (عليها) (٢)، (يقولون: اللَّه أكبر) (٣)، ويقولون: سبحان اللَّه (و) (٤) (اللَّه أكبر) (٥)، (ونحو ذلك) (٦)، ليس فيها شك، وليتني لم أشهد (٧).عمرو بن مرہ سے مروی ہے کہ میں نے سوید بن حارث کو یہ کہتے ہوئے سنا ہم نے جنگ جمل کے دن دیکھا کہ ہمارے نیزے اور ان کے نیزے آپس میں ایسے گھسے ہوئے تھے کہ اگر لوگ چاہتے تو ان پر چل سکتے تھے۔ کچھ لوگ اللہ اکبر کے نعرے بلند کررہے تھے اور کچھ سبحان اللہ اللہ اکبر کے نعرے لگار ہے تھے اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ اس میں کوئی شک نہیں۔ کاش میں اس جنگ میں شریک نہ ہوتا۔ اور عبداللہ بن سلمہ فرمایا کرتے تھے مجھے یہ بات بھلی معلوم نہیں ہوتی کہ میں جنگ جمل میں شریک نہیں ہوا۔ میں پسند کرتا ہوں ہر اس حاضر ہونے کی جگہ حاضر ہوں جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ شریک ہوں۔