حدیث نمبر: 40560
٤٠٥٦٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن رجل قد سماه قال: شهدت يوم الجمل (فما) (١) دخلت دار الوليد إلا ذكرت يوم الجمل، (ووقع) (٢) السيوف على (البيض) (٣)، قال: كنت أرى عليا يحمل فيضرب (بسيفه) (٤) ⦗٤٧٨⦘ (حتى) (٥) ينثني، ثم يرجع (٦) فيقول: لا تلوموني، ولوموا هذا، ثم يعود فيقومه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اعمش نے ایک آدمی سے نقل کیا ہے اس کا نام بھی ذکر کیا تھا کہ میں یوم جمل کو جنگ میں حاضر ہوا تھا میں جب بھی ولید کے گھر میں داخل ہوتا ہوں یوم جمل مجھے ضرور یاد آتا ہے جس دن تلواریں خودوں پر لگ رہی تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میں نے دیکھا تلوار اٹھائے ہوئے تلوار چلاتے ہوئے آگے جاتے پھر واپس لوٹتے اور کہتے مجھے ملامت نہ کرو اسے ملامت کرو پھر لوٹتے اور اسے سیدھا کرتے۔

حواشی
(١) في [س]: (فلما).
(٢) في [أ، ب]: (ودفع).
(٣) في [هـ]: (المبيض).
(٤) في [ع]: (بالسيف).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) في [أ، ب]: زيادة (ثم يقول).
(٧) مجهول؛ لإبهام شيخ الأعمش، وسماه ابن جرير في التاريخ: (عبد اللَّه بن سنان الكاهلي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40560
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40560، ترقيم محمد عوامة 38913)