٤٠٥٣١ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي وائل قال: دخلت على عبيد اللَّه بن زياد بالبصرة وقد أتى بجزية أصبهان ثلاثة آلاف ألف، فهي موضوعة بين يديه، فقال: يا أبا وائل: ما تقول فيمن مات وترك مثل هذه؟ قال: فقلت: أعرض به: (كيف) (١) إن كانت من غلول؟ قال: ذاك شر على شر، ثم قال: يا أبا وائل! إذا أنا قدمت الكوفة فأتني لعلي أصيبك بخير، قال: فقدم الكوفة، قال: فأتيت علقمة فأخبرته فقال: أما إنك لو (أتيته) (٢) قبل أن تستشيرني، لم أقل لك شيئا، فأما (إذا) (٣) استشرتني فإنه (يحق) (٤) علي أن (أنصحك) (٥)، فقال: ما أحب أن لي ألفين من (الفيء) (٦) وإني أعز الجند عليه، وذلك أني لا (أصيب) (٧) من دنياهم شيئا إلا أصابوا من ديني أكثر منه.ابو وائل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس بصرہ گیا جب کہ اس کے سامنے اصبہان کا تین لاکھ جزیہ پڑا تھا۔ ابن زیاد نے کہا اے ابو وائل اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اتنا ترکہ چھوڑ کر مرا ہو۔ میں نے تعریض کرتے ہوئے کہا کیا حال ہو اگر یہ خیانت کا مال ہو۔ ابن زیاد نے کہا یہ تو شرپر شر ہوا، پھر کہا اے ابو وائل جب میں کوفہ آؤں تو میرے پاس آنا ممکن ہے کہ میں تمہیں خیر پہنچاؤں، ابو وائل کہتے ہیں : اگر آپ مجھ سے مشورہ کرنے سے پہلے اسکے پاس چلے جاتے تو میں کچھ نہ کہتا، اور اب اگر مجھ سے مشورہ کر ہی بیٹھے ہو تو مجھ پر یہ حق ہے آپ کا کہ آپ کو نصیحت کروں، پس علقمہ نے فرمایا : میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے دولاکھ درہم ہوں اور مجھے ایک لشکر پر عزت دی جائے۔ اور یہ اس وجہ سے کہ میں ان کی دنیا تک اتنا نہیں پہنچ سکتا جتنا وہ میرے دین کو نقصان پہنچائیں گے۔