٤٠٥٢٨ - حدثنا معاوية بن هشام عن علي بن صالح عن يزيد بن أبي زياد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه بن مسعود قال: (بينا) (١) نحن عند رسول اللَّه ﷺ (إذ) (٢) أقبل فتية من بني هاشم، فلما (رآهم) (٣) النبي ﷺ (اغرورقت) (٤) عيناه وتغير لونه، ⦗٤٥٢⦘ قال: فقلت له: (ما نزال نرى) (٥) في وجهك شيئا (نكرهه؟) (٦) قال: "إنا أهل (بيت) (٧) اختار (اللَّه لنا) (٨) الآخرة على الدنيا، وإن أهل بيتي سيلقون بعدي بلاء (وتشريدا) (٩) (وتطريدا) (١٠)، (حتى) (١١) يأتي قوم من قبل المشرق معهم رايات سود يَسألون الحقَ فلا يُعطَونه، فيقاتلون (فينصرون) (١٢) فيعطون ما سألوا، فلا (يقبلونه) (١٣) حتى (يدفعوها) (١٤) إلى رجل من أهل بيتي، فيملؤها قسطا كما ملؤوها جورا، فمن أدرك ذلك منكم فليأتهم ولو (حبوا) (١٥) على الثلج" (١٦).عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ اس دوران بنو ہاشم کے کچھ نوجوان سامنے آئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ کا رنگ بدل گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کے چہرے پر ایسی شئے کو دیکھ رہے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل بیت کے لیے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے۔ میرے بعد اہل بیت کو ایک آزمائش، انتشار اور جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم آئے گی ان کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے وہ حق کا مطالبہ کریں گے مگر ان کو حق نہیں دیا جائے گا پس وہ قتال کریں گے اور نقصان پہنچائیں گے پس ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائیگا مگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ امر خلافت میرے اہل بیت کے ایک شخص کے سپر د کردیا جائے پس وہ زمین کو ایسے انصاف سے بھر دیں گے جیسے ان سے پہلوں نے ظلم وستم سے بھردیا تھا۔ تم میں سے اگر کوئی اسکو پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کے پاس جائے اگرچہ بر ف پر گھسٹ کر جانا پڑے۔