٤٠٥٢٣ - [حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن إسماعيل الأودي قال: أخبرتني بنت معقل بن يسار أن أباها (ثقل) (٢)، فبلغ ذلك (ابن) (٣) (زياد) (٤) فجاء يعوده فجلس فعرف فيه الموت فقال له: يا معقل ألا تحدثنا، فقد كان اللَّه ينفعنا بأشياء (نسمعها) (٥) منك، فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ليس من وال يلي (أمة) (٦)، قلت: أو كثرت لم يعدل فيهم إلا ⦗٤٥٠⦘ (كبه) (٧) اللَّه (لوجهه) (٨) في النار"، فأطرق الآخر ساعة فقال: شيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ (٩) أو من وراء وراء؟ قال: لا، بل شيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ (١٠)، (سمعت رسول اللَّه ﷺ) (١١) يقول: "من استرعى رعية فلم يحطهم بنصيحة لم يجد ريح الجنة، وريحها يوجد من مسيرة مائة عام"، (فقال) (١٢) ابن زياد: ألا كنت حدثتني بهذا قبل الآن؟ قال: والآن لولا ما أنا عليه لم أحدثك به] (١٣) (١٤).بنت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ ان کے والد محتر م کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو یہ خبر ابن زیاد کو پہنچی پس ابن زیاد عیادت کے لیے حاضر خدمت ہوا پس ان کے قریب بیٹھا اور ان کے چہرے پر موت کے اثرات دیکھے پھر کہنے لگا اے معقل ! کیا آپ حدیث بیان نہیں کریں گے تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان احادیث سے جو آپ سے سنی ہیں بہت نفع پہنچایا ہے۔ پس حضرت معقل بن یسار نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” کہ کوئی والی حکومت نہیں جس کی رعیت میں میری کم یا زیادہ امت ہو اور وہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو منہ کے بل آگ میں پھینکے گا۔ وہ ایک گھڑی کے لیے مبہوت ہوگئے۔ پھر ابن زیاد بولا یہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے یا ان کے بعد آنے والوں سے سنا ہے معقل نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے ” کہ جس شخص کو رعایا کی باگ دوڑ دی جائے اور اس کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا جبکہ جنت کی خوشبو سو سال کے فاصلے سے آتی ہے۔ ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنائی ؟ حضرت معقل نے فرمایا اگر میں مرض الوفات میں نہ ہوتا تو آپ کو اب بھی یہ حدیث نہ سناتا۔