حدیث نمبر: 40520
٤٠٥٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن زياد بن مخراق عن أبي كنانة عن أبي موسى قال: قام النبي ﷺ على باب (١) فيه نفر من قريش، (فقال) (٢): "إن هذا الأمر في قريش ما داموا إذا استرحموا رحموا، وإذا ما حكموا عدلوا، وإذا ما قسموا ⦗٤٤٨⦘ أقسطوا، فمق لم يفعل ذلك منهم فعليه لعنة اللَّه والملائكة والناس (أجمعين) (٣)، لا يقبل منه صرف ولا عدل" (٤).مولانا محمد اویس سرور
ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھر میں دروازے پر کھڑے تھے جس کے اندر قریش کے کچھ لوگ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امر خلافت قریش کے اندر رہے گا جب تک قریش والے رحم کے طلب گار پر رحم کرتے رہیں گے اور انصاف کے لیے آنے والوں کے ساتھ انصاف کریں گے، اور تقسیم میں عدل سے کام لیں گے۔ ان میں سے جو ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ، فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اور اس سے نوافل و فرائض قبول نہیں کیے جائیں گے۔
حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (بيت).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [س].
(٤) مجهول؛ أبو كنانة روى عنه جمع، ولم يجرحه أحد وحسن له الذهبي، وأخرج له أبو داود والحديث أخرجه أحمد (١٩٥٤١)، والثعلبي في التفسير ٨/ ٣٣٧، وابن أبي عاصم في السنة (١١٢١)، والبزار (٣٠٦٩)، وابن بشكوال ٢/ ٨٤٩، والمزي ٣٤/ ٢٢٨.