٤٠٤٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: قال حذيفة حين قتل عثمان: اللهم إن كانت العرب أصابت بقتلها عثمان خيرا أو رشدا أو رضوانا فإني بريء منه، وليس لي فيه نصيب، وإن كانت العرب أخطأت بقتلها عثمان فقد علمت براءتي، قال: اعتبروا قولي (ما) (١) أقول لكم، واللَّه إن كانت العرب أصابت بقتلها عثمان (لتحتلبن) (٢) به (لبنا) (٣)، [ولئن كانت العرب أخطأت بقتلها عثمان (لتحتلبن) (٤) به دما] (٥) (٦).محمد سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کے قتل کے وقت فرمایا کہ اے اللہ اگر اہل عرب نے حضرت عثمان کو شہید کر کے اچھا کیا یعنی خیرو ہدایت اور تیری رضا کی خاطر، تو میں اس سے بری ہوں اور میرا اس میں کچھ حصہ نہیں اور اگر اہل عرب نے ان کو شہید کرکے غلطی کی تو میری براءت کے بارے میں تو جانتا ہی ہے۔ پھر فرمایا میری اس بات سے عبرت حاصل کرو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اللہ کی قسم اگر اہل عرب نے ان کے قتل میں بھلائی کی تو عنقریب وہ اس کا نفع دیکھ لیں گے اور اگر انہوں نے اس میں غلطی کی تو اس کا خونی نقصان بھی دیکھ لیں گے۔