٤٠٤٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن بكر قال: حدثنا حاتم بن أبي (صغيرة) (١) عن عمرو ابن دينار قال: لما ذكروا من شأن عثمان الذي ذكروا أقبل عبد الرحمن بن عوف في نفر من أصحابه حتى دخلوا على عبد اللَّه بن عمر (فقالوا) (٢): يا أبا عبد الرحمن ألا ترى ما قد أحدث هذا الرجل؟ فقال: بخ، بخ، فما تأمروني؟ تريدون أن تكونوا مثل الروم و (فارس) (٣) إذا غضبوا على ملك قتلوه، قد ولاه اللَّه الذي ولاه فهو أعلم لست بقائل في شأنه شيئًا (٤).عمرو بن دینار سے منقول ہے کہتے ہیں جب حضرت عثمان کے بارے میں تذکرہ ہوا جس طرح تذکرے لوگ کرتے ہیں تو عبدالرحمن اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے۔ پس لوگوں نے کہا اے عبدالرحمن کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اس آدمی (حضرت عثمان ) نے کتنی چیزیں پیدا کردیں ؟ حضرت عبدالرحمن نے فرمایا واہ بھئی واہ تم مجھے کس بات کا حکم دے رہے ہو ؟ کیا تم چاہتے ہو تم روم اور فارس والوں کی طرح ہوجاؤ کہ جب وہ اپنے بادشاہ سے ناراض ہوتے تو اسے قتل کردیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ امارت سونپی ہے کہ وہی زیادہ بہتر جاننے والا ہے میں ان کی شان میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔