٤٠٤٩١ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا أبو (محصن) (١) أخو حماد بن نمير رجل من أهل واسط، قال: حدثنا حصين بن عبد الرحمن قال: حدثني (جهم) (٢) من بني فهر، قال: (أنا) (٣) شاهد هذا الأمر، قال: جاء سعد وعمار فأرسلوا إلى عثمان أن (ائتنا) (٤)، فإنا نريد أن نذكر لك أشياء أحدثتها أو أشياء فعلتها، قال: فأرسل إليهم أن انصرفوا اليوم، فإني مشتغل وميعادكم يوم كذا وكذا حتى (أشزن) (٥)، قال أبو (محصن) (٦): (أشزن) (٧) أستعد لخصومتكم. قال: فانصرف سعد وأبى عمارُ أن ينصرف -قالها أبو محصن مرتين- قال: فتناوله رسول عثمان فضربه. قال: فلما اجتمعوا للميعاد، ومن معهم قال لهم عثمان: (ما) (٨) تنقمون مني؟ قالوا: (ننقم) (٩) عليك ضربك عمارا، قال: قال عثمان: جاء سعد وعمار فأرسلت إليهما، فانصرف سعد وأبى عمار أن ينصرف، فتناوله (رسولي) (١٠) من غير أمري، فواللَّه ما أمرت ولا رضيت، (فهذه) (١١) يدي لعمار (فليصطبر) (١٢) ⦗٤٣١⦘ قال: أبو (محصن) (١٣): يعني (يقتص؟) (١٤). قالوا: ننقم عليك أنك جعلت الحروف حرفا واحدا، قال: جاءني حذيفة فقال: ما كنت (صانعًا) (١٥) إذا قيل: قراءة فلان وقراءة فلان (وقراءة فلان) (١٦)، كما اختلف أهل (الكتاب) (١٧) فإن يك صوابا فمن اللَّه، وإن يك خطأ فمن حذيفة. قالوا: (ننقم) (١٨) عليك أنك حميت الحمى، قال: جاءتني قريش فقالت: إنه ليس من العرب قوم إلا لهم حمى يرعون فيه (غيرنا) (١٩)، ((ففعلت) (٢٠) ذلك) (٢١) لهم؛ فإن رضيتم فأقروا، وإن كرهتم فغيروا، أو قال: لا تقروا -شك أبو (محصن) (٢٢). قالوا: و (ننقم) (٢٣) عليك أنك استعملت السفهاء أقاربك، (قال) (٢٤): فليقم أهل كل مصر (يسألوني) (٢٥) صاحبهم الذي يحبونه فاستعمله عليهم وأعزل عنهم الذي يكرهون، قال: فقال أهل البصرة: رضينا بعبد اللَّه بن عامر، فأقره علينا، ⦗٤٣٢⦘ وقال أهل الكوفة: أعزل (سعيدا) (٢٦)، وقال الوليد: شك أبو (محصن) (٢٧): واستعمل علينا أبا موسى ففعل، قال: وقال أهل الشام: قد رضينا بمعاوية فأقره علينا، وقال أهل مصر: أعزل عنا ابن أبي سرح واستعمل علينا عمرو بن العاص، ففعل، (قال) (٢٨): فما جاءوا بشيء إلا خرج منه. قال: فانصرفوا راضين، فبينما بعضهم في بعض الطريق إذ مر بهم راكب فاتهموه ففتشوه، فأصابوا معه كتابا في (إدواة) (٢٩) إلى عاملهم أن (خذ) (٣٠) فلانا وفلانا فاضرب أعناقهم، قال: فرجعوا فبدءوا بعلي (٣١) (فجاء) (٣٢) معهم إلى عثمان، فقالوا: هذا كتابك وهذا خاتمك، فقال عثمان: واللَّه ما كتبت، ولا علمت، ولا أمرت، قال: (فمن) (٣٣) تظن؟ -قال: أبو (محصن) (٣٤) (تتهم) (٣٥) - قال: أظن كاتبي غدر وأظنك (به) (٣٦) يا علي، قال: فقال له علي: ولم تظنني بذاك؟ قال: لأنك مطاع عند (القوم) (٣٧)، قال: ثم لم تردهم عني. ⦗٤٣٣⦘ قال: (فأبى) (٣٨) القوم وألحوا عليه حتى حصروه، قال: فأشرف عليهم وقال: بم تستحلون دمي؟ فواللَّه ما حل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: مرتد عن الإسلام أو ثيب زان أو قاتل نفس، فواللَّه ما (عملت) (٣٩) شيئًا منهن منذ أسلمت، قال: فألح القوم عليه. قال: وناشد عثمان الناس أن لا تراق فيه (محجمة) (٤٠) من دم، فلقد رأيت ابن الزبير يخرج عليهم في كتيبة حتى يهزمهم، لو شاءوا أن يقتلوا منهم لقتلوا، قال: ورأيت سعيد بن الأسود (بن) (٤١) البختري وإنه ليضرب رجلا بعرض السيف لو شاء أن (يقتله) (٤٢) لقتله، ولكن عثمان عزم على الناس فأمسكوا. قال: فدخل عليه أبو عمرو بن بديل الخزاعي (٤٣) (و) (٤٤) التجيبي، قال. فطعنه أحدهما بمشقص في أوداجه وعلاه الآخر بالسيف فقتلوه، ثم انطلقوا (هرابًا) (٤٥) يسيرون بالليل ويكمنون بالنهار حتى أتوا بلدا بين مصر والشام، قال: (فكمنوا) (٤٦) في غار. قال: فجاء نبطي من تلك البلاد معه حمار، قال: فدخل (ذباب) (٤٧) في منخر الحمار، قال: فنفر حتى دخل عليهم الغار، وطلبه صاحبه فرآهم: ⦗٤٣٤⦘ فانطلق إلى عامل معاوية، (قال) (٤٨): فأخبره بهم، قال: فأخذهم معاوية فضرب أعناقهم (٤٩).جہم فہری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے اس معاملہ کو ازخود مشاہدہ کیا کہ سعد اور عمارہ نے حضرت عثمان کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسی چیزوں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو آپ نے نئی نکالی ہیں۔ حضرت عثمان نے پیغام بھیجا کہ آپ آج چلے جائیں آج میں مصروف ہوں فلاں دن تم سے ملاقات کے لیے مقرر ہے تا کہ میں خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں ابو محصن کہتے ہیں کہ اشزن کا معنی ہے میں تمہارے ساتھ خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں۔ سعد تو واپس چلے گئے عمار نے واپس جانے سے انکار کردیا ابو محصن نے یہ دودفعہ فرمایا۔ تو حضرت عثمان کے قاصد نے ان کو پکڑ کر مارا۔ پس مقررہ دن جب وہ سب جمع ہوئے تو حضرت عثمان نے ان سے کہا تم کس چیز پر مجھ سے ناراض ہو ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ نے جو عمارکو مارا ہے اس پر ہم ناراض ہیں حضرت عثمان نے فرمایا کہ سعد اور عمار آئے تھے میں نے ان کو پیغام بھیجا کہ وہ چلے جائیں سعد تو چلے گئے مگر عمار نے انکار کیا تو میرے قاصد نے میرے حکم کے بغیر اس کو مارا اللہ کی قسم نہ تو میں نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ ہی میں اس پر راضی تھا۔ پھر بھی میں حاضر ہوں ! عمار اپنا بدلہ لے لیں ابو محصن لیصطبر کا مطلب قصاص لینا بتلاتے ہیں۔ پھر وہ کہنے لگے ہم آپ سے ناراض ہیں کہ آپ نے مختلف حروف کو (قراء توں) ایک ہی حرف بنادیا حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہائے تھے پس انہوں نے کہا کہ آپ اس وقت کیا کرسکیں گے جب کہا جائے گا فلاں کی قراءت ، فلاں کی قراءت اور فلاں کی قراءت جیسے اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا ؟ پس اگر یہ عمل ( ایک قراءت پر عربوں کو جمع کرنا) درست ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ آپ نے چراگاہیں مقرر کردیں ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس قریش آئے تھے اور کہا تھا کہ عرب کی ہر قوم کے پاس چراگاہ موجود ہے سوائے ہمارے تو میں نے ان کے لیے چراگاہ مقرر کردی اگر تم راضی ہو تو اسے برقرار رکھو اور اگر تمہیں ناگواری ہوتی ہے تو اسے بدل دو یا یہ فرمایا کہ تم مقرر نہ کرو ابو محصن کو اس میں شک ہوا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ ہم آپ سے اس وجہ سے ناراض ہیں کہ آپ نے ہمارے اوپر اپنے اقرباء ناسمجھ لوگوں کو مسلط کردیا ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا ہر شہر والے کھڑے ہوں اور مجھے بتائیں جسے وہ پسند کرتے ہیں میں اس کو گورنر بنا دونگا اور جس کو ناپسند کرتے ہیں اس کو معزول کر دونگا۔ پس اہل بصرہ نے کہا ہم عبداللہ بن عامر سے راضی ہیں انہی کو برقرار رکھیے۔ پھر کوفہ والوں نے کہا سعید کو معزول کردیا جائے (ولید کہتے ہیں کہ ابو محصن کو شک ہوا ہے) اور ابو موسیٰ کو ہم پر گورنر بنایا جائے۔ پس حضرت عثمان نے ایسا ہی کیا۔ اہل شام نے کہا ہم حضرت معاویہ سے راضی ہیں ہم پر انہیں ہی برقرار رکھیے۔ اور اہل مصر نے کہا ابن ابو سرح کو معزول کرکے عمرو بن عاص کو گورنر بنایا جائے۔ حضرت عثمان نے ایسا کردیا۔ انہوں نے جس جس شئے کا تقاضہ کیا اسے انہوں نے حاصل کرلیا اور بخوشی واپس لوٹ گئے۔ ابھی وہ راستے میں تھے کہ ان کے پاس سے ایک سوار گزرا پس ان کو اس پر شک ہواتو انہوں نے اس سے تحقیق کی تو اس کے پاس سے چمڑے کے برتن سے ایک خط برآمد ہوا جو ان کے عامل کے نام تھا۔ اس کا مضمون تھا کہ تم فلاں فلاں کی گردن ماردو۔ پس وہ لوٹے اور علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے پھر ان کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس گئے پھر انہوں نے حضرت عثمان سے کہا یہ رہا آپ کا خط اور یہ رہی آپ کی مہر۔ حضرت عثمان نے فرمایا اللہ کی قسم نہ میں نے خط لکھا اور نہ میں اس کے بارے کچھ جانتا ہوں اور نہ ہی میں نے اس کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ کے خیال میں کون ہوسکتا ہے لکھنے والا ابو محصن کہتے ہیں یا کہا پھر آپ کس پر تہمت لگائیں گے ؟ حضرت عثمان نے فرمایا میرا خیال ہے میرے کاتب نے دھوکہ دہی سے کام لیا ہے، اور مجھے اے علی رضی اللہ عنہاپ پر بھی شک ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ آپ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ نے ان کو مجھ سے پھیر کیوں نہیں دیا۔ ان لوگوں نے آپ کا اعتبار نہ کیا اور اپنی ضد پر اڑے رہے یہاں تک کہ حضرت عثمان کا محاصرہ کرلیا۔ پھر حضرت عثمان ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میرے خون کو حلال سمجھتے ہو ؟ اللہ کی قسم مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین وجہ سے ایک یہ کہ وہ مرتد ہوجائے، دوسرا شادی شدہ زانی اور تیسرا کسی کو قتل کرنے والا۔ اللہ کی قسم میں نہیں سمجھتا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں ان میں سے کسی کا ارتکاب کیا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی ضد پر ڈٹے رہے۔ پھر حضرت عثمان نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خونریزی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر کو دیکھا کہ وہ ایک لشکر میں نکلے تا کہ ان باغیوں کو مغلوب کریں اگر وہ چاہتے کہ باغیوں کو قت