٤٠٤٨٢ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل (عن) (١) قيس قال: لما قدم معاوية وعمرو الكوفة أتى الحارث بن الأزمع (عمرا) (٢) فخرج عمرو وهو راكب، فقال له الحارث: (جئت) (٣) في أمر لو وجدتك على قرار لسألتك، فقال عمرو: ما كنت (لتسألني) (٤) عن شيء وأنا على قرار إلا أخبرتك به ⦗٤٢٢⦘ الآن، قال: فأخبرني عن علي وعثمان، قال: فقال: اجتمعت السخطة والأثرة، فغلبت السخطة الأثرة، ثم سار (٥).قیس سے منقول ہے جب معاویہ اور عمرو کوفہ آئے تو حارث بن ازمع عمرو کے پاس آئے۔ عمروسوار ہو کر نکل رہے تھے حارث نے انہیں کہا میں ایک کام آیا تھا اگر آپ تشریف فرما ہوتے تو میں آپ سے ایک سوال پوچھتا۔ حضرت عمرو نے فرمایا تم نے جو سوال کرنا ہے وہ کرلو، کیونکہ جس سوال کا جواب میں تمہیں بیٹھے ہونے کی حالت میں دے سکتا ہوں، اب بھی دے سکتا ہوں۔ حارث نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ اور عثمان کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے فرمایا غیظ و غضب اور خود غرضی ایک جگہ جمع ہوئے تھے پس غیظ و غضب خود غرضی پر غالب آگیا۔ پھر آپ چل دیے۔