٤٠٤٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت ذكوان أبا صالح يحدث عن صهيب مولى العباس قال: أرسلني العباس إلى عثمان أدعوه، قال: فأتيته فإذا هو (يغدي) (١) الناس، فدعوته فأتاه فقال: أفلح الوجه أبا الفضل، قال: ووجهك أمير المؤمنين، قال: ما زدت أن أتاني رسولك وأنا (أغدي) (٢) الناس ⦗٤٢١⦘ (فغديتهم) (٣) ثم أقبلت، فقال العباس: أذكرك اللَّه في علي فإنه ابن عمك، وأخوك في دينك وصاحبك مع رسول اللَّه ﷺ وصهرك، وإنه قد بلغني أنك تريد أن (تقوم) (٤) بعلي وأصحابه فاعفني من ذلك يا أمير المؤمنين، فقال عثمان: أنا (أول ما) (٥) (أجبتك) (٦) أن قد شفعتك أن عليا لو شاء ما كان أحد دونه، ولكنه أبى إلا رأيه، وبعث إلى علي فقال له: أذكرك اللَّه في ابن عمك وابن عمتك وأخيك في دينك وصاحبك مع رسول اللَّه ﷺ وولي بيعتك، فقال: واللَّه لو أمرني أن أخرج من داري لخرجت، فأما أن أداهن أن لا يقام كتاب اللَّه فلم أكن لأفعل (٧).صہیب جو کہ عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے عباس نے مجھے حضرت عثمان کے پاس بھیجا کہ میں ان کو بلا کر لاؤں۔ کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو وہ لوگوں کو ناشتہ کروا رہے تھے میں نے ان کو بلایا پس و ہ آگئے اور فرمایا اے ابو الفضل آپکا چہرہ کامیاب رہے۔ حضرت عباس نے بھی فرمایا اے امیر المؤمنین آپ کا چہرہ بھی فلاح کو پائے پھر عرض کیا کہ آپ کا پیغام سنتے ہی چلا آیا صرف کھانا کھلایا ہے لوگوں کو۔ عباس نے فرمایا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیشک وہ آپ کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ کے ماموں کے بیٹے ہیں اور آپ کے دینی بھائی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کے ہم زلف ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے مد مقابل کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اے امیرالمؤمنین ! اس کی معافی آپ مجھے دیدیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ کی اس بات کو قبول کیا اور آپ کی سفارش کو قبو ل کیا بیشک اگر علی رضی اللہ عنہ چاہے تو ان کے علاوہ کوئی نہ ہو مگر انہوں نے انکار کردیا سوائے رائے دینے کے پھر عباس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ میں تم کو تمہارے چچا کے بیٹے کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں جو تمہارا پھوپھی کا بیٹا ہے اور دینی بھائی ہے اور آپ کے ساتھ صحابیٔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور آپ نے ان سے بیعت بھی کی ہوئی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ مجھے گھر سے نکلنے کا حکم دیتے تو میں ضرور نکلتارہی بات ہدایت کی کہ اللہ کی کتاب کو قائم نہ کیا جائے تو میں ایسا نہیں کرسکتا۔ محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کو میں نے بیشمار دفعہ سنا ہے اور ان پر کئی دفعہ پیش کیا ہے۔