حدیث نمبر: 40474
٤٠٤٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن محمد قال: خطب عليٌّ بالبصرة فقال: واللَّه ما قتلته ولا مالأت (على) (١) قتله، (فلما) (٢) نزل قال له بعض أصحابه: أي شيء صنعت، الآن (يتفرق) (٣) عنك أصحابك، فلما عاد إلى المنبر قال: من كان سائلا عن دم عثمان فإن اللَّه قتله وأنا معه، (قال) (٤) محمد: هذه كلمة قرشية (ذات) (٥) وجه (٦).مولانا محمد اویس سرور
محمد سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں خطبہ فرمایا اللہ کی قسم میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ میں نے ان کے قتل میں معاونت کی۔ جب وہ منبر سے نیچے اترے تو آپ کے کسی ساتھی نے کہا پھر آپ نے کیا کیا ؟ اب آپ سے آپ کے ساتھی جدا ہورہے ہیں۔ پس جب حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس منبر پر آئے تو فرمایا عثمان کے قتل کے بارے میں سوال کرنے والا کون ہے ؟ بیشک عثمان کو اللہ نے قتل کیا اور میں ان کے ساتھ ہوں گا (یعنی میں بھی قتل کردیا جاؤں گا) محمد کہتے ہیں یہ کلمہ ذو وجہین ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (عليه).
(٢) في [أ، ب]: (فلا).
(٣) في [جـ]: (يتقوف).
(٤) في [أ، ب، جـ، س]: (فقال).
(٥) في [جـ]: (ذاب).
(٦) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن علي، أخرجه الطبراني ١/ (١١٢)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٥٨.