حدیث نمبر: 40471
٤٠٤٧١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن ثابت بن عبيد عن أبي جعفر الأنصاري قال: دخلت مع المصريين على عثمان، فلما ضربوه خرجت أشتد قد ملأت (فروجي) (١) عدوا حتى دخلت المسجد، فإذا رجل جالس في نحو من عشرة عليه عمامة (سوداء) (٢) فقال: ويحك ما وراءك؟ قال: قلت: قد واللَّه فرغ من الرجل، قال: فقال: تبا لكم آخر الدهر، قال: فنظرت فإذا هو علي (٣).
مولانا محمد اویس سرور

ابو جعفر انصاری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے مصریوں کے ساتھ میں بھی تھا۔ جب انہوں نے حضرت عثمان کو مارا تو میں گھبراہٹ کی حالت میں بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص مسجد کے ایک کونے میں بٹھا تھا اور اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ اس نے کہاتمہاری ہلاکت ہو تمہارے پیچھے کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے کہا اللہ کی قسم اس شخص (حضرت عثمان ) کا کام تمام ہوگیا۔ اس بیٹھے ہوئے شخص نے کہا ہلاکت ہو تمہارے لیے آخر زمانہ میں۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (فروحي).
(٢) في [ب، جـ، س]: (سودا)، واللفظة كناية عن شدة السرعة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40471
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو جعفر عده ابن حجر في القسم الثاني من الإصابة ٧/ ٥٧ وقال: "أقل أحواله أن يكون من أهل هذا القسم" وأخرجه ابن سعد ٣/ ٢٩، واللالكائي (٢٥٨٣)، والخلال (٤٤١)، والبيهقي ٣/ ٢٤٦، وابن عساكر ٣٩/ ٤٤٨، وابن منده في فتح الباب ١/ ١٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40471، ترقيم محمد عوامة 38831)