٤٠٤٧١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن ثابت بن عبيد عن أبي جعفر الأنصاري قال: دخلت مع المصريين على عثمان، فلما ضربوه خرجت أشتد قد ملأت (فروجي) (١) عدوا حتى دخلت المسجد، فإذا رجل جالس في نحو من عشرة عليه عمامة (سوداء) (٢) فقال: ويحك ما وراءك؟ قال: قلت: قد واللَّه فرغ من الرجل، قال: فقال: تبا لكم آخر الدهر، قال: فنظرت فإذا هو علي (٣).ابو جعفر انصاری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے مصریوں کے ساتھ میں بھی تھا۔ جب انہوں نے حضرت عثمان کو مارا تو میں گھبراہٹ کی حالت میں بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص مسجد کے ایک کونے میں بٹھا تھا اور اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ اس نے کہاتمہاری ہلاکت ہو تمہارے پیچھے کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے کہا اللہ کی قسم اس شخص (حضرت عثمان ) کا کام تمام ہوگیا۔ اس بیٹھے ہوئے شخص نے کہا ہلاکت ہو تمہارے لیے آخر زمانہ میں۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔