حدیث نمبر: 40346
٤٠٣٤٦ - حدثنا وكيع عن كهمس (بن) (١) الحسن (عن) (٢) ابن بريدة (٣) عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر عن عمر قال: كنا جلوسا عند النبي ﷺ فجاءه رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر السفر، ولا يعرفه منا أحد ⦗٣٦٦⦘ فدنا منه حتى أدنى ركبتيه (من) (٤) ركبتيه، (ووضع كفيه) (٥) على فخذيه، (فقال) (٦): يا محمد! متى الساعة؟ فقال: "ما المسئول عنها بأعلم من السائل، قال: ولكن (من) (٧) (أماراتها) (٨) أن تلد الأمة ريتها، وأن ترى (الحفاة) (٩) العراة أصحاب النساء قد تطاولوا في البنيان" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بہت زیادہ سفید کپڑوں والے بہت زیادہ سیاہ بالوں والے ایک صاحب آئے ان پر سفر کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے تھے اور ہم میں کوئی بھی ان کو پہچانتا نہیں تھا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کے قریب کردیے اور اپنی ہتھیلیاں اپنی رانوں پر رکھ لیں اور عرض کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قیامت کب قائم ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا لیکن اس کی نشانیوں میں ہے کہ باندی اپنے آقا کو جنے گی اور یہ کہ ننگے پاؤں والے اور ننگے بدن والے بکریاں چرانے والے لوگ عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) هو عبد اللَّه بن بريدة.
(٤) في [جـ، س]: (ووضع).
(٥) سقط من: [جـ، س] وفي [أ، ب، ع]: (ووضع ركبتيه).
(٦) في [ع]: (وقال).
(٧) سقط من: [جـ].
(٨) في [أ، ب، جـ]: (أمارتها).
(٩) في [س، ع]: (الجناة)، وفي [جـ]: (الجفاة الجفاة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40346
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٨)، وأحمد ١/ ٢٨ (١٩١) و (٣٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40346، ترقيم محمد عوامة 38713)