حدیث نمبر: 40300
٤٠٣٠٠ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (زهير عن الأسود بن قيس قال: حدثنا) (١) ثعلبة بن عباد العبدي من أهل البصرة أنه شهد يوما (خطبة) (٢) (لسمرة) (٣) ابن جندب، فذكر في خطبته حديثا عن رسول اللَّه ﷺ أنه قال: "واللَّه لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال، ممسوح العين اليسرى كأنها عين أبي (تحيى) (٤) -أو: يحيى- لشيخ من الأنصار، وإنه متى يخرج فإنه يزعم أنه اللَّه، ⦗٣٤٦⦘ (فمن) (٥) (آمن) (٦) به وصدقه واتبعه فليس (ينفعه) (٧) صالح من عمل له سلف ومن كفر به وكذبه فليس يعاقب بشيء من عمله سلف، وإنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس، وإنه (يحصر) (٨) المؤمنين في بيت المقدس، قال: فيهزمه اللَّه وجنوده حتى إن (جذم) (٩) الحائط (و) (١٠) أصل الشجرة ينادي: يا مؤمن! هذا كافر يستتر (بي) (١١) تعال اقتله، قال: ولن يكون (ذاك) (١٢) (كذاك) (١٣) حتى ترون أمورا (يتفاج) (١٤) شأنها في أنفسكم، (تساءلون) (١٥) بينكم: هل كان (نبيكم) (١٦) ذكر لكم منها ذكرا؟ وحتى تزول جبال عن (مراتبها) (١٧)، ثم على أثر ذلك (القبض) (١٨) " -وأشار بيده قال: ثم شهدت له خطبة أخرى، قال: فذكر هذا الحديث ما قدم كلمة ولا أخرها (١٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثعلبہ بن عباد عبدی جوا ہل بصرہ میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ وہ ایک دن حضرت سمرہ بن جندب کے خطبہ میں موجود تھے پس انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم قیامت نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال نکلیں گے ان میں سے آخری کانا دجال ہوگا اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی گویا کہ ابی تحیی یا ابو یحییٰ کی آنکھ کی طرح جو کہ انصار میں ایک بوڑھا تھا اور وہ جب نکلے گا وہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے جو آدمی اس پر ایمان لے آیا اور اس کی تصدیق کی اور اس کی پیروی کرے گا پس اسے اس کے گزشتہ نیک عمل نفع نہ پہنچائیں گے اور جس آدمی نے اس کا انکار کیا اور اس کی تکذیب کی پس اسے اس کے گزشتہ (برے) عملوں پر سزا نہ دی جائے گی اور وہ ساری زمین پر غالب آجائے گا سوائے مسجد حرام اور بیت المقدس پر اور وہ مومنین کو بیت المقدس میں روک دے گا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے لشکر کو شکست دیں گے یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد یا فرمایا درخت کی جڑ پکارے گی اے مومن یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے مار دو اور یہ اس طرح ہرگز نہیں ہوگا یہاں تک کہ تم دیکھو گے ایسے امور جنہیں تم اپنے نفسوں میں بھیڑیا سمجھتے ہو تم آپس میں پوچھو گے کیا تمہارے نبی نے اس سلسلہ میں کوئی تذکرہ کیا ہے اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں گے پھر اس کے بعد قبض ہوگی اور ہاتھ سے اشارہ کیا (قبض سے مراد واللہ اعلم عام موت اور قیامت کا وقوع ہے) راوی نے فرمایا پھر میں ان کے دوسرے خطبے میں شریک ہوا فرمایا کہ اسی حدیث کو ذکر کیا ایک بات نہ آگے کی اور نہ ہی پیچھے کی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (قطنة).
(٣) في [س]: (سمرة).
(٤) في [أ، ب، س]: (يحيى).
(٥) في [ط، هـ]: (ممن).
(٦) في [ب]: (أمر).
(٧) في [ب]: (يتبعه).
(٨) في [أ، ب]: (يحضر).
(٩) في [س]: (حزم).
(١٠) في [أ، جـ]: (أو).
(١١) في [أ، س]: (لي)، وفي [جـ]: (لى)، وفي [ط، هـ]: (به).
(١٢) في [أ]: (ذلك).
(١٣) في [س]: (كذلك).
(١٤) أي: يتعاظم، وفي [أ، ب، جـ، س]: (ينفاج).
(١٥) في [أ]: (يتسالون).
(١٦) في [أ، ب، س]: (بينكم).
(١٧) في [أ، ب، جـ]: (مراتها).
(١٨) في [أ، س]: (الفيض).
(١٩) مجهول؛ لجهالة ثعلبة بن عباد، أخرجه أحمد ٥/ ١٦ (٢٠١٩٠)، وابن خزيمة (١٣٩٧)، وابن حبان (٢٨٥٦)، والحاكم ١/ ٣٢٩، والشافعي في السنن المأثورة (٥٢)، والطحاوي في شرح المشكل ٧/ ٣٩٨، والروياني (٨٤٧)، والسهمي في تاريخ جرجان ص ٢٣٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40300
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40300، ترقيم محمد عوامة 38668)