حدیث نمبر: 40210
٤٠٢١٠ - حدثنا (معاوية بن هشام قال: حدثنا) (١) سفيان عن جبلة عن عامر بن مطر قال: كنت مع حذيفة فقال: يوشك أن تراهم ينفرجون عن دينهم كما تنفرج المرأة عن قبلها، فامسك بما أنت عليه اليوم (فإنه) (٢) الطريق الواضح، كيف أنت يا عامر بن مطر إذا أخذ الناس طريقا والقرآن طريقا، مع أيهما تكون؟ قلت: مع القرآن أحيا معه وأموت معه، قال: فأنت أنت إذن (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامربن مطر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے فرمایا قریب ہے کہ تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اپنے دین ارزاں کردیں گے جیسے عورت اپنی شرمگاہ کو ارزاں کردیتی ہے جس طریقے پر آج تم ہو اس پر ٹھہرے رہو کیونکہ وہ واضح راستہ ہے اے عامر بن مطر تمہاری کیا حالت ہوگی جب لوگ ایک راستہ اختیار کرلیں گے اور قرآن کا ایک راستہ ہوگا تم دونوں میں سے کس کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کیا قرآن کے ساتھ رہوں گا اسی کے ساتھ زندہ رہوں گا اور اس کے ساتھ مروں گا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت تو تو ہی ہوگا۔

حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ط، هـ]: (فإنها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40210
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عامر بن مطر صدوق، وأخرجه الحاكم ٤/ ٤٥٨، ونعيم في الفتن (٣٦٣)، وابن حزم في الأحكام ٤/ ٥٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40210، ترقيم محمد عوامة 38581)