مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٢٠٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن سالم (بن) (١) أبي الجعد عن عبد اللَّه بن سبيع قال: خطبنا علي (٢) (قال) (٣): لتخضبن (هذه) (٤) من هذا -يعني لحيته من رأسه- قالوا: أخبرنا به نقتله، قال: إذن باللَّه تقتلون بي غير قاتلي، ⦗٣٠٦⦘ قالوا: فاستخلف (علينا) (٥)، قال: لا، (ولكن) (٦) أترككم (إلى ما ترككم) (٧) إليه رسول اللَّه ﷺ (٨)، قال: فما تقول لربك إذا لقيته؟ قال: أقول: اللهم كنت فيهم ثم (قبضتني إليك) (٩)، وأنت فيهم، (فإن) (١٠) شئت أصلحتهم وإن شئت أفسدتهم (١١).حضرت عبداللہ بن سبیع سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور ارشاد فرمایا اس حصہ کو یہاں تک خون آلود کردیا جائے گا اور مراد تھی داڑھی سے سر تک کا حصہ لوگوں نے عر ض کیا ہمیں اس شخص کے بارے میں بتلائیں ہم اسے قتل کردیں گے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا پھر تو تم میرے لیے اس آدمی کو قتل کرو گے جو میرا قاتل نہیں پھر لوگوں نے عرض کیا ہم پر خلیفہ مقرر کردیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ میں تمہیں اسی حالت پر چھوڑوں گا جس حالت پر تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑا (یعنی بغیر خلیفہ مقرر کرنے کے) لوگوں نے عرض کیا آپ اپنے رب سے کیا کہیں گے جب آپ کی اس سے ملاقات ہوگی انہوں نے ارشاد فرمایا میں کہوں گا کہ اے اللہ ! جب ان میں موجود تھا تو آپ بھی ان میں موجود تھے اگر آپ چاہتے تو ان کی اصلاح کردیتے اور اگر آپ چاہتے تو ان کی حالت خراب کردیتے۔