مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40204
٤٠٢٠٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن سليمان بن ميسرة عن طارق ابن شهاب (عن زيد بن صوحان) (١) قال: قال لي (سلمان) (٢): كيف أنت إذا (اقتتل) (٣) القرآن والسلطان؟ قال: إذن أكون مع القرآن، قال: نعم الزويد أنت إذا، فقال: أبو قرة -وكان يبغض الفتن: إذن أجلس في بيتي، فقال سلمان: لو كنت في أقصى تسعة أبيات كنت مع إحدى (الطائفتين) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن صوحان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے سلمان نے فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب قرآن اور بادشاہ کی لڑائی ہوگی انہوں نے جواب میں فرمایا اس وقت میں قرآن کے ساتھ ہوں گا انہوں نے فرمایا اس وقت زید تم بہت ہی اچھے ہوگے ابو قرہ جو فتنوں کو ناپسند کرتے تھے کہا میں اس وقت اپنے گھر میں بیٹھوں گا حضرت سلمان نے فرمایا اگر تو نوکروں کے اندر بھی ہوا تو تو دو گروہوں میں سے ایک کے ساتھ ہوگا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ص].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (سليمان).
(٣) في [أ]: (فشل).
(٤) في [ع]: (الفريقين).