حدیث نمبر: 40196
٤٠١٩٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن غالب ابن عجرد قال: أتيت عبد اللَّه بن عمرو -أنا (و) (١) صاحب لي- وهو يحدث الناس فقال: ممن أنتما؟ فقلنا: من أهل البصرة، قال: فعليكما إذن (بضواحيها) (٢)، فلما تفرق الناس عنه دنونا منه فقلنا: رأيت قولك: ممن أنتما؟ وقولك: عليكما (بضواحيها؟) (٣) إذن، قال: إنّ دارَ مملكتها وما حولها مشوب بهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت غالب بن عجرد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ساتھی حضرت ابو عبداللہ بن عمرو کے پاس آئے جبکہ وہ لوگوں کے سامنے (احادیث) بیان کر رہے تھے تو انہوں نے پوچھا کہ تم دونوں کون ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ بصرہ والوں میں سے انہوں نے فرمایا تم دونوں پر بصرہ کے متصل علاقے لازم ہیں جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے تو ہم ان کے قریب ہوئے ہم نے ان سے عرض کیا کیا خیال ہے آپکا اپنی بات (تم کہاں سے ہو) اور آپ کی بات کہ تم پر لازم ہے بصرہ کے متصل علاقے انہوں نے فرمایا بیشک بصرہ اور اس کے ارد گرد کے مملو کہ گھر وہاں کے باشندوں کے درمیان مشترک ہوجائیں ۔ ثابت راوی کہتے ہیں کہ غالب بن عجرد جب کسی کشادہ مقام میں داخل ہوئے تو دوڑتے ہوئے یہاں تک کہ اس سے نکل جاتے۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ع]: (بفواحها)، وفي [أ، ب]: (بصواحبها).
(٣) في [ع]: (بفواحها)، وفي [أ، ب]: (بصواحبها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40196
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ غالب بن عجرد ذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه جمع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40196، ترقيم محمد عوامة 38568)